وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ایک ٹوئٹ کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہاکہ کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر بے جا تنقید کرنے والے حقائق سے بے خبر ہیں-
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ زیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اے آئی انٹیلی جنس ہب کے افتتاح پر واویلا کرنے والوں کو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ جدید گورننس صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، امن، قانون، ٹیکنالوجی اور عوام کے تحفظ کے لیے جدید نظام کھڑا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے-
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج پنجاب میں اے آئی ہب، پیفٹک، پولیس کی ٹیکنالوجی، CTD کی استعداد، باڈی کیمز، تھرمل اور نائٹ ویژن کیمرے، جوائنٹ چیک پوسٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے پر کام ہو رہا ہے،مریم نواز کا واضح مؤقف ہے کہ جرم ہونے کے بعد کارروائی کافی نہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرے اور جرم کو پہلے سے شناخت کرکے روکنا اصل کامیابی ہے اور یہی فرق ہے حکومت کرنے اور صرف سیاست کرنے میں۔
انہوں نے مزید کہا ک خارجہ امور اور بیرونی خطرات وفاقی دائرۂ اختیار میں ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی ذمہ داری گورننس اور داخلی سلامتی ہے، مریم نواز اسی سمت میں کام کر رہی ہیں: CTD کی استعداد میں اضافہ، سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی، عدالتوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعما ل۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ صوبائی انٹیلیجنس فیوژن سینٹر کا افتتاح اسی پالیسی کا عملی قدم ہے مقصد انٹیلیجنس، پولیسنگ اور بروقت ردعمل کو جدید ٹیکنالوجی سے مؤثر بنانا ہے دوسری طرف خیبرپختونخوا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں ترجیح پولیس، CTD اور انسدادِ دہشت گردی ہونی چاہیے، نہ کہ وفاقی خارجہ امور میں مداخلت، دوسرے صوبوں میں سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی سیاست۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اصل پہچان بیانات نہیں، کارکردگی ہے پنجاب کا راستہ واضح ہے: اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرو، ادارے مضبوط کرو اور عوام کو محفوظ بناؤ،جو اپنی کارکردگی کا جواب نہیں دے سکتے، وہ دوسروں پر بیان بازی سے اپنی کمزوریاں نہیں چھپا سکتے-
عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کے ناقدین سے سوال کیا کہ اگر اے آئی، جدید پولیسنگ، سی ٹی ڈی، سیکیورٹی ٹیکنالوجی اور جرائم کی روک تھام پر سرمایہ کاری غلط ہے تو اس کا بہتر متبادل کیا ہے؟ کیا صرف تنقید، صرف پریس کانفرنسیں یا صرف احتجاجی سیاست ہی متبادل ہے؟-
