Baaghi TV

پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کمرشل بینکوں کا کردار ختم

وزارت خزانہ کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ نادرا کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہ راست سی جی اے اور ایم اے جی کو موصول ہوگا،پنشن اکاؤنٹس کو آئندہ غیر فعال یا ڈارمنٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔

پروف آف لائف جمع نہ کرانے پر بینک پنشن اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندی نہیں لگا سکیں گے،چھ ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل نہ ملنے پر پنشن سسپنس اسٹیٹس میں چلی جائے گی،لائف سگنل موصول ہوتے ہی پنشن خودکار طور پر بحال اور بقایا جات جاری ہوں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ادارے کے طور پر کام کریں گے،بینک معمول کے حالات میں لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا جمع نہیں کر سکیں گے،نئے ایس او پی کے تحت پنشن کی ادائیگی براہ راست بینک اکاؤنٹس میں جاری رہے گی،پنشنرز کے لیے فزیکل ڈسبر سر ہاف کا نظام مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،تصدیق ممکن نہ ہونے پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر سے دستی تصدیق کی سہولت ہوگی۔

انتہائی عمر رسیدہ پنشنرز فارم دس کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ جمع کرا سکیں گے،خاندانی پنشنرز کو ازدواجی حیثیت سے متعلق فارم بارہ جمع کرانا ہوگا 22 اگست 2026 سے پہلے ڈارمنٹ کیے گئے پنشن اکاؤنٹس دوبارہ فعال کیے جائیں گے،ستمبر 2026 سے پنشن کی رقم موصول ہونے پر پرانے ڈارمنٹ اکاؤنٹس بھی فعال ہوں گے،پنشن ادائیگی کے لیے اکاؤنٹس کھولنے اور برقرار رکھنے پر سروس چارجز نہیں ہوں گے۔

ڈیجیٹل پروف آف لائف کیا ہے؟

ڈیجیٹل پروف آف لائف (Digital Proof of Life) یا تصدیقِ حیات کا نظام ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے پنشنرز (Pensioners) گھر بیٹھے اپنی زندگی کی ڈیجیٹل تصدیق کر سکتے ہیں تاکہ ان کی پنشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔

حکومتِ پاکستان اور نادرا (NADRA) نے بزرگ شہریوں کی سہولت کے لیے یہ نظام متعارف کرایا ہے، جس کے بعد اب پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد بینک یا سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں رہی،پنشنرز اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت (Facial Recognition) کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

نادرا کی پاک آئی ڈی (Pak ID) ایپ کے ذریعے پنشنرز یا ان کے اہلخانہ گھر بیٹھے یہ سرٹیفکیٹ بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں، جو پنشنرز موبائل ایپ استعمال کرنا نہیں جانتے، وہ نادرا کے مراکز، ای سہولت فرنچائزز یا مخصوص یونین کونسلز جا کر بھی یہ تصدیق مفت کروا سکتے ہیں۔

More posts