Baaghi TV

ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں ‘ڈیٹا ہیکنگ’ کا الزام، بیجنگ کا بھی ردعمل آگیا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے،چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا، بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔

ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔

یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔

تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی دوسری جانب چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

More posts