امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے اٹلی کے دارالحکومت روم اور ویٹیکن کا دورہ کریں گے-
اطالوی حکومتی ذریعے کے مطابق مارکو روبیو، جو خود بھی کیتھولک ہیں،ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ پیٹرو پیرولن اور اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے ملاقات کریں گےاطالوی میڈیا کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو سے بھی ملاقات کریں گے،یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ سامنے آیا تھا یہ دورہ امریکا اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کی ایران کے خلاف پالیسی اور جنگی بیانات پر تنقید کی تھی، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا تھا،پوپ لیو چہاردہم نے 7 اپریل کو ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے امن کی اپیل کی تھی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی پالیسیوں کو کمزور قرار دیا۔
دوسری جانب اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے پوپ کے حق میں بیان دیتے ہوئے ٹرمپ کی تنقید کو ‘ناقابل قبول’ کہا، جس پر ٹرمپ نے میلونی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی قیادت پر سوال اٹھایا ذرائع کے مطابق مارکو روبیو کا یہ دورہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر امریکا، یورپ اور ویٹیکن کے تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
