حال ہی میں سنگاپور کی حکومت نے کہا کہ وزرا اور عوامی عہدوں پر فائز افراد کی سالانہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا جن میں سنگاپور کے وزیراعظم بھی شامل ہیں اور وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے سربراہ ہیں،د وزیراعظم لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں تقریباً 11 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔
وزیراعظم لارنس وونگ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ نظرثانی شدہ پیکیج کے تحت ان کی سالانہ بنیادی تنخواہ 22 لاکھ سنگاپور ڈالر (تقریباً 17 لاکھ امریکی ڈالر) سے بڑھ کر 36 لاکھ سنگاپور ڈالر (تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر) ہوجائے گی اسی طرح نائب وزیراعظم کی سالانہ تنخواہ 18 لاکھ 70 ہزار سنگاپور ڈالر سے بڑھ کر 30 لاکھ 60 ہزار ڈالر جبکہ کابینہ کے وزرا کو عہدے کی اہمیت اور سینیارٹی کے لحاظ سے 18 لاکھ سے 28 لاکھ 80 ہزار سنگاپور ڈالر تک سالانہ معاوضہ ملے گا۔
لارنس وونگ نے کہا کہ ان کی تنخواہ میں ہونے والے اضافے کی پوری رقم وہ اپنے دورِ حکومت میں فلاحی اور دیگر مناسب مقاصد کے لیے عطیہ کردیں گے۔
سنگاپور میں سیاسی رہنماؤں کو دنیا کی بلند ترین سرکاری تنخواہیں دینے کا مقصد باصلاحیت افراد کو سیاست کی جانب راغب کرنا اور بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا بتایا جاتا ہے، تاہم یہ معاملہ ملک میں ایک حساس سیاسی موضوع بھی ہے کیونکہ وزرا کی آمدنی عام شہریوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
وزیراعظم وونگ کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کی سفارش ایک آزاد کمیٹی نے کی ہے موجودہ عہدیداروں کو فوری طور پر نئی تنخواہوں کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جائے گا، تاہم 15 اکتوبر سے انہیں انفرادی حالات اور کارکردگی کی بنیاد پر ایک مرتبہ 9 فیصد تک اضافی رقم دی جائے گی،سنگاپور نے وزرا کی تنخواہوں میں آخری مرتبہ 15 سال قبل تبدیلی کی تھی یہ ملک دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بدعنوانی کی شرح انتہائی کم ہے۔
بی بی سی کے مطابق لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں ایک عشاریہ چار ملین سنگاپور ڈالر کا اضافہ ہو گا تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے دوران اس اضافی آمدن کو خیرات کے مقصد سے استعمال کریں گے، وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ اس لیے ضروری تھا تاکہ بہتر ٹیلنٹ سامنے آئے سنگاپور کی حکو مت کا ماضی میں یہ موقف رہا ہے کہ وزرا کو زیادہ تنخواہ دینے سے کرپشن فروغ نہیں پاتی۔
سنگاپور کے بعد سب سے زیادہ تنخواہ پانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی لیتے ہیں۔ انھیں سات لاکھ 19 ہزار امریکی ڈالر ملتے ہیں،تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی برنارڈ پارملن ہیں جن کی تنخواہ چھ لاکھ چھ ہزار امریکی ڈالر ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنخواہ سالانہ چار لاکھ امریکی ڈالر ہے،برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی مرے کی سالانہ تنخواہ دو لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر ہے۔
منگل کے دن سنگاپور کے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان کے ملک میں عام شہری کے مقابلے میں وزرا کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں۔ سنگاپور میں اوسط ماہانہ آمدن 5775 ڈالر ہے۔
تاہم لارنس وونگ نے موقف اختیار کیا کہ انھیں کاروباری شخصیات اور اعلی عہدیداران کو سیاسی عہدہ لینے پر قائل کرنے میں مشکل ہوتی رہی ہے اور ان کے مطابق حکومت ان کو اتنی تنخواہ نہیں دے سکتی جتنا وہ کماتے ہیں لیکن کریئر چھوڑ کر سیاست میں آنے کی معاشی قیمت بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ میرے اور آئندہ کے وزرائے اعظم کو قابل شہریوں کو آگے بڑھ کر سنگاپور کے لیے مضبوط ٹیم بنانے میں اس سے مدد ملے گی۔‘
سنگاپور میں وزرا کی تنخواہ ایک اعشاریہ ایک ملین ڈالر ہے جو حالیہ اضافے کے بعد ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر ہو جائے گی۔
وزیراعظم وونگ کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ حکومت کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ان وزرا کی تنخواہ مذید بڑھے گی جس کی بنیاد ان کی کارکردگی ہو گی۔
واضح رہے کہ وزرا کی تنخوہوں میں اضافے کا دورومدار چند اہم امور سے جڑا ہے جن میں ملک میں ملازمت کی شرح، معاشی ترقی کے طے شدہ اہداف کا حصول شامل ہے سنگاپور کی حکومت ملک میں کرپشن کی کمی کو ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے کہ وزرا کو زیادہ تنخواہ دینا فائدہ مند ہوتا ہے۔
سنگاپور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل تنظیم کی جانب سے شائع ہونے والی سالانہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں تقریبا سب سے اوپر ہے۔ سنگاپور حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ تنخواہ کی وجہ سے وزرا میں رشوت لینے کا لالچ نہیں رہتا۔
