ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
مشرقی وسطیٰ میں صورتحال نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے اور دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا ہے،فضائی حدود بند کرنے والے ممالک میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔
امارات ایئرلائن نے دبئی ہوائی اڈے سے اپنی پروازیں معطل کر دیں، جبکہ فلائی دبئی کی سروسز بھی فضائی حدود کی بندش سے متاثر ہوئیں قطر ایئرویز نے عارضی طور پر پروازیں روک دیں، اور عمان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دیں، کویت ایئرویز نے ایران کے لیے تمام پروازیں بند کر دیں،پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔
ایمریٹس نے بھی دبئی آنے اور جانے والی اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئر لائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے تازہ ترین صورتحال ضرور چیک کریں متاثرہ مسافروں کو ری بکنگ، رقم کی واپسی یا متبادل سفری انتظامات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ورجن اٹلانٹک نے بھی لندن ہیتھرو سے دبئی جانے والی اپنی پرواز منسوخ کر دی ہے جبکہ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا، مالدیپ اور سعودی عرب جانے والی پروازوں کو متبادل راستوں کے باعث زیادہ وقت لگ سکتا ہےاسی طرح برٹش ایئر ویز نے تل ابیب اور بحرین کے لیے اپنی پروازیں بدھ تک منسو خ کر دی ہیں جبکہ عمان جانے والی پرواز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
ہنگامی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لندن سے دوحہ جانے والی ایک پرواز کو منزل کے قریب پہنچ کر واپس موڑ دیا گیاوزز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں جبکہ سعودی عرب کے لیے اس کی پروازیں منگل تک منسوخ رہیں گی۔
ان کے علاوہ ایئر انڈیا، لفتھانسا اور ترکش ایئرلائنز نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے متعدد پروازیں منسوخ یا محدود کرنے کا اعلان کیا ہے ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فضائی حدود محفوظ قرار دی جائیں گی، پروازوں کا شیڈول مرحلہ وار بحال کر دیا جائے گا۔
ترک ایئرلائنز اور دیگر ترک فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔
جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور نیدرلینڈز کی بڑی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب، دبئی، بیروت، ریاض اور دیگر شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں، جبکہ بعض پروازوں کو دورانِ سفر واپس موڑنا پڑا۔
بھارت کی قومی فضائی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں اور دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا۔ جاپان کی قومی فضائی کمپنی نے ٹوکیو سے دوحہ کی سروس منسوخ کر دی، جبکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں نے بھی ممکنہ خلل سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
قومی ایئر لائن نے بھی خلیجی ممالک کے لیے اپنا فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کے لیے شیڈول تمام پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں یہ معطلی ابتدائی طور پر اتوار کی شام تک یا خطے میں فضائی حدود کی بحالی تک برقرار رہے گی سعودی عرب کے لیے پروازیں بدستور جاری رہیں گی تاہم حفاظتی وجوہات کی بنا پر ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث متعدد پروازیں کراچی منتقل کر دی گئی ہیں جس کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈائیورٹڈ فلائٹس کا دباؤ بڑھ گیا ہےایئرپورٹ ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر پارکنگ اسپیس عارضی طور پر دستیاب نہیں رہی۔
انتظامیہ کی جانب سے ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ڈائیورژن سے قبل جناح ٹرمینل انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، جبکہ ڈائیورٹڈ پروازوں کے لیے پیشگی کوآرڈینیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہےصورتحال کے پیشِ نظر دو گھنٹوں کے لیے نیا نوٹم جاری کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق مختلف ایئرلائنز کی تین بین الاقوامی پروازیں صرف ایندھن بھروانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر اتریں، جو ری فیولنگ کے بعد روانہ ہو گئیں۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش سے عالمی فضائی نظام میں شدید خلل پیدا ہوا ہے اور مسافروں کو طویل تاخیر اور منسوخیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے صورتحال کے پیشِ نظر فضائی کمپنیاں مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔
