ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔
ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
"آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی شعبدہ بازیوں کے باعث امریکی عوام کو ایران کے خلاف ایک ظالمانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق علی لاریجانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسخرہ پن پر مبنی حرکات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے امریکی عوام کو ایران کے خلاف غیر منصفانہ جنگ میں گھسیٹ لیا، اب اُنہیں حساب لگانا ہوگا کہ صرف چند دنوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا امریکا اب بھی پہلے نمبر پر ہے یا اسرائیل؟-
کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا
علی لاریجانی، جو ماضی میں ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر رہ چکے ہیں اور اس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں نے ایک مبہم پیغام میں خبردار کیا کہ کہانی ابھی جاری ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے یہ جنگ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے، ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی مارے گئے، جنہوں نے جون 2025 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں اپنے پیش روؤں کی ہلاکت کے بعد عہدے سنبھالے تھے۔
ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ
حکومتی اندازوں کے مطابق اب تک چار روزہ جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار پچاس ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں جنوبی ایرانی شہر میناب کے 165 اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو وسطی تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے، جن میں ان کی اہلیہ، بیٹی، بہو، داماد اور پوتے پوتیاں شامل تھے ایرانی قیادت نے خامنہ ای کی شہادت کا سخت انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا اور اسرائیل و مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں پیر کے روز جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران نے طویل جنگ کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔
شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ
