Baaghi TV

یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

iran

یمن کے حوثی باغیوں (انصاراللہ) نے تصدیق کی ہے کہ وہ عسکری طور پر ایران کے ساتھ صف بندی کے لیے تیار ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے ’المیادین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں حوثی تحریک کے سیاسی رہنما اور ترجمان محمد البخیتی نے کہا کہ یمن خطے کی مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، خصوصاً ایران کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار ہے صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے انصاراللہ کے رہنما سید عبدا لملک الحوثی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ’ہماری انگلی ٹریگر پر ہے، اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کے لیے تیا ر ہیں ۔

محمد البخیتی نے مزید کہا کہ یمن کی جنگ میں شمولیت کے لیے وقت کا انتظار ہے، اس حوالے سے مکمل رابطے میں ہیں،ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خطے میں موجود ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جہاں سے اس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں ، اس وقت نشانہ صرف ایران نہیں بلکہ تمام عرب اور اسلامی ممالک ہیں امریکا کو خلیجی ممالک کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں بلکہ وہ انہیں ایران کے خلاف جنگ میں الجھانا چاہتا ہے۔

افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

انہوں نے خطے کے تمام ممالک سے فوری طور پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے اور اس محاذ پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیےیہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اور ہمیں اسے اس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک ہم اپنی شرائط منوانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کن معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام حق کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔

یمن میں جمعہ کے روز عالمی یوم القدس کے موقع پر ملک بھر میں ہونےوالے مظاہروں میں بھی ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا مظاہرین نے حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔

امت مسلمہ کو اتحاد،اخوت اور مضبوط نظریاتی بیانیے کی ضرورت ہے،حافظ طلحہ سعید

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ہفتے کے روز اپنے 15ویں دن میں داخل ہو گئی ہےایران کی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کے طور پر ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت اب تک 48 سے زائد حملے کیے ہیں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق یمنی حوثیوں کی جانب سے ایران کی حمایت کے بعد ممکنہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ’باب المندب‘ کو بھی بند کیا جاسکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو بحیرہ احمر آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا، سعودی تیل کی برآمدات اچانک رک جائیں گی اور عالمی تجارت کو ایک اور شدید جھٹکا لگے گا۔

متحدہ عرب امارات میں بندرگاہیں جائز ہدف ہیں، ایران

More posts