Baaghi TV

برٹش ایئرویز کی پرواز میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

ile

ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔

یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے، اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔

ابتدائی طور پر عملے نے مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا، آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔

جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا،لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسا فر وں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔

برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔

انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔

More posts