بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کے الزامات پر انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست پیر کے روز سابق جوبو دل رہنما مشیر رحمان مامون نے چیف پراسیکیوٹر امین الاسلام کے پاس جمع کروائی ملزمان میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کےسابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیخ مامون خالد بھی شامل ہیں، تاہم تمام ملزمان کی مکمل فہرست تاحال جاری نہیں کی گئی۔
درخواست گزار کے مطابق انہیں 23 فروری 2015 کو ڈھاکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بنکاک جاتے ہوئے مبینہ طور پر سادہ لباس اہلکاروں نے حراست میں لیا، جنہوں نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والا ظاہر کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں 6 ماہ تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، جہاں وہ آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیوں میں رہے۔
اسحاق ڈار کا پرتگال کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ
مامون کے مطابق 23 اگست 2015 کو انہیں ڈیٹیکٹو برانچ کے حوالے کیا گیا، جہاں مختصر ریمانڈ کے بعد انہیں ڈھاکا سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا وہ تقریباً 2 سا ل جیل میں رہے اور بعد ازاں ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی-
