Baaghi TV

براہموس بحران،بھارت میں سپرسانک میزائل کی پیداوار میں کمی،بھارتی بحریہ کو ترسیل میں تاخیر

نئی دہلی: بھارت کے انتہائی اہم دفاعی منصوبے براہموس سپرسانک کروز میزائل کو سنگین داخلی بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث اس کی پیداوار میں مبینہ طور پر 50 فیصد سے زائد کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے بھارتی بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، جنگی تیاری اور خطے میں دفاعی توازن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق براہموس ایروسپیس میں بڑے پیمانے پر عملے کے تبادلوں نے مینوفیکچرنگ نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس بحران کے باعث بحریہ کو میزائلوں کی فراہمی میں کئی سال کی تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے فرنٹ لائن جنگی جہازوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔براہموس میزائل بھارتی بحریہ کے لیے ایک کلیدی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جو بحیرہ ہند میں بڑھتی ہوئی چینی بحری سرگرمیوں کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف دفاعی حکمت عملی بلکہ بھارت کی برآمدی پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اندرونی رپورٹس کے مطابق کم از کم 56 تجربہ کار ملازمین جن میں انجینئرز، سسٹم ماہرین، سینئر ٹیکنیشنز اور منیجرز شامل ہیں کو اچانک مختلف مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ تبادلے خاص طور پر حیدرآباد، لکھنؤ، ناگپور اور پلانی کے درمیان کیے گئے، جہاں ملازمین کو 13 اپریل 2026 تک نئی تعیناتیوں پر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔دفاعی امور سے وابستہ ایک سابق افسر نے ان تبادلوں کو "بلا جواز” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حساس اور انتہائی درستگی کے حامل پروڈکشن یونٹس سے تجربہ کار عملے کی اچانک منتقلی ادارے کے لیے خودساختہ نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کو بعض ملازمین کی جانب سے انتظامی اصلاحات کے بجائے دباؤ یا ہراسانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ماہر انجینئرز اور ٹیکنیشنز کے استعفوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میزائلوں کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ بحران جلد حل نہ ہوا تو اس کے اثرات نئی دہلی سے لے کر بیجنگ تک اور پورے انڈو پیسیفک خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، جہاں عسکری توازن پہلے ہی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

More posts