امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھتے ہوئے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے عوام پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی آٹوموبیل ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ اضافہ خطے میں جاری ایران سے متعلق کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی گیلن قیمت بڑھ کر 4.1 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عام شہریوں بلکہ ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں یہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی منڈی پر پڑتے ہیں، جس سے امریکا سمیت کئی ممالک میں ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
امریکا میں پیٹرول 4 سال کی بلند ترین سطح پر
