ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیج دیں-
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیجی ہیں، جو امریکی 9 نکاتی جنگ بندی تجویز کے جواب میں پیش کی گئی ہیں ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تجاویز "جنگ بندی” کی بجائے "جنگ کے مکمل خاتمے” پر مرکوز ہیں، جس کے لیے امریکا کو ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں 2 ماہ کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل کو 30 دن کے اندر حل کیا جائے اور جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔
ایران کی جانب سے پیش کی گئی 14 نکاتی تجویز میں متعدد اہم امور شامل ہیں، جن میں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی تجویز بھی ایرانی منصوبے کا حصہ ہے اور ایران اس وقت اپنی تجاویز پر امریکا کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جمعرات کو امریکا کو 14 نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔
اس تجویز سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق اس میں ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے پر معاہدہ کیا جائے گا۔ ایرانی تجویز کے مطابق اس ابتدائی معاہدے کے بعد مزید ایک ماہ کی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کو جمعرات کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اس کے بعد کوپر خطے کے دورے پر روانہ ہوئے اور ہفتے کے روز بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹرپولی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔
جمعے کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ہفتے کے روز پام بیچ سے میامی روانگی سے قبل انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پرواز کے دوران اس کا جائزہ لیں گے ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہے۔
