ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں آنے والا ’ایل نینو‘ نہ صرف قریب ہے، بلکہ یہ تاریخ کا ایک انتہائی شدید یا ’سپر ایونٹ‘ بن سکتا ہے۔
بحرِ الکاہل میں درجہ حرارت کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے سائنسدانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ سمندر کی گہرائی میں توانائی تیزی سے جمع ہو رہی ہے جس سے سطح کے نیچے کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے،تازہ ترین پیشگوئی کے مطابق جولائی تک اس موسمیاتی رجحان کے ابھرنے کے امکانات 61 فیصد ہیں، جبکہ 25 فیصد خدشہ اس بات کا ہے کہ یہ ’سپر ایل نینو‘ کی صورت اختیار کرلے گا، جو گزشتہ 140 سالوں میں طاقتور ترین واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق موسمیاتی ماڈلز اس بات پر متفق ہیں کہ ایل نینو کا آغاز ہونے والا ہے جو وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرے گا ماہرین اس صورتحال پر خاصے پریشان ہیں، کیونکہ اس وقت سمندر کی سطح کا درجہ حرارت پہلے ہی ریکارڈ حد تک بلند ہے اور مغربی بحرِ الکاہل میں اٹھنے والے غیر معمولی ’ٹرپل سائیکلونز‘ گرم پانی کو انتہائی تیز رفتاری سے مشرق کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا، تو عالمی درجہ حرارت ایک ایسی سطح پر پہنچ سکتا ہے جس کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایل نینو کے باعث 2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر 2027 میں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ پاش پاش کر دے گا۔
