کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔
ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-
پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔
لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
