چین کے دورے سے قبل جاری بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں-
ایک ویڈیو پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین سیاست، معیشت، دفاع اور انسانی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام پر مبنی ہیں،ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی کسی کے خلاف نہیں۔
روسی صدر نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، 25 برس قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستا نہ تعاون‘ کے بعد روس اور چین نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے،دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور زیادہ تر لین دین اب روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات
روسی صدر نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا،ماسکو چین کی تاریخ اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور انسانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف
