ترکی میں سیاسی بحران نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب انسدادِ ہنگامہ آرائی پولیس نے مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہو کر وہاں موجود قیادت کو نکالنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے اتوار کے روز پارٹی دفتر کے باہر قائم عارضی رکاوٹیں توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران عمارت کے اندر آنسو گیس کے بادل پھیل گئے جبکہ اندر موجود افراد نے نعرے بازی کی اور دروازوں کی جانب اشیا پھینکیں۔
تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم واقعے کے بعد انقرہ میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔
ترک عدالت نے چند روز قبل اپوزیشن جماعت CHP کے رہنما اوزگور اوزیل کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ عدالت نے 2023 کے پارٹی انتخابات کو مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق چیئرمین کمال کلیچدار اوغلو کو دوبارہ بحال کر دیا۔
اتوار کو انقرہ کے گورنر نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں موجود افراد کو نکالنے کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
اوزگور اوزیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ “ہم پر حملہ کیا جا رہا ہے” اور انہوں نے عدالتی فیصلے کو “جوڈیشل کُو” قرار دیتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ترکی میں جمہوریت اور حکومتی اختیارات کے درمیان توازن کے لیے ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے صدر رجب طیب اردوان کی طویل حکمرانی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
ترکی، جو نیٹو کا اہم رکن ملک ہے، اس وقت اندرونی سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن کے بحران کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ترکی میں اپوزیشن ہیڈکوارٹر پر پولیس چھاپہ، سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا
