وزیراعظم نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی-
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا ہے اور معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،چین کی جانب سے پیش کیا گیا چار نکاتی ایجنڈا خطے میں امن کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے کے امن اور معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحالیہ سفارتی رابطوں میں فیلڈ مارشل نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف سطحوں پر ہونے والے رابطوں کو مؤثر بنانے میں معاونت کی،پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مصروف دن گزاریں گے جہاں وہ چینی صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گےوزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا وزیراعظم کو گریٹ ہال آف دی پیپلز آمد پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا جبکہ چین کے وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا استقبال کریں گے۔
دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیر غور آئیں گے، اس موقع پر معاہدوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی وزیراعظم بیجنگ میں تیانمن اسکوائر جا کر عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔
دورے کے دوران وزیراعظم چینی سرمایہ کاروں اور مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر گفتگو متوقع ہے،وزیراعظم پاک چین سفارتی تعلقات کی75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقر یب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا جائے گا۔
