Baaghi TV


ایران امریکا مجوزہ معاہدے کی ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں

‎ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی یادداشتِ مفاہمت سے متعلق ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر اس معاہدے پر توجہ بڑھ گئی ہے۔
‎ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکی افواج ایران کے اطراف کے علاقوں سے واپس چلی جائیں گی جبکہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے گی۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔
‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ امریکی فوجی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمد و رفت کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
‎رپورٹس کے مطابق عمان کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں بحری روٹس اور آمدورفت کا انتظام ایران کے زیر نگرانی ہوگا۔
‎ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ طے پا گیا تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی شکل دی جائے گی تاکہ اس پر عالمی سطح پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تیل منڈیوں کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی ہیں، جسے عالمی معیشت کیلئے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی استحکام آنے کا امکان ہے۔

More posts