امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا،امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے،اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 95 ڈالر اور یو اے ای مربن کی فی بیرل قیمت 96 ڈالر ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، سپلائی سے متعلق خدشات اور عالمی طلب میں اضافے کے باعث سامنے آئی ہے۔
امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا،گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔
فوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی،دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
