Baaghi TV

لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

لاہور: پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر کردیا۔

گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کیس کو ہائی پروفائل ڈیکلیئر کر تے ہوئے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیاپراسیکیوٹر جنرل پنجاب کاکہنا ہےکہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری دے گی اور مقدمے میں دفعات سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے دوسرے بیان سے بھی یوٹرن لے لیا،لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتما عی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب لڑکی کا ہلاکت سے قبل ریکارڈ کیا گیا دوسرا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے ڈرائیور حسن نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا-

پولیس کے مطابق لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی یہی مؤقف تحریری بیان کی صورت میں دے چکی تھی لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، جبکہ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں شامل قتل کی دفعات کے تحت بھی تفتیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے درج کررکھا ہے۔

More posts