Baaghi TV

امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

china,usa

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انٹیلیجنس ادارے نے اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے لاحق خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر ’کریٹیکل‘ یعنی بلند ترین سطح پر کر دی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز اور اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اسرائیل کی انسانی اور تکنیکی جاسوسی صلاحیتوں کو ’کریٹیکل‘ قرار دیا گیا ہےیہ جائزہ 7 صفحات پر مشتمل دستاویز اور ایک تفصیلی چارٹ پر مبنی ہے، جس میں امریکی حکام کے خلاف ممکنہ انٹیلیجنس سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے،یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور لبنان کے معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انسدادِ جاسوسی حکام اسرائیلی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش رکھتے ہیں، خصوصاً ان کوششوں پر جو ایران اور لبنان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سازی اور اندرونی مشاورت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو بھی ممکنہ نگرانی کے اہداف میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کی شدت غیر معمولی رہی ہے اگرچہ اتحادی ممالک کے درمیان محدود پیمانے پر جاسوسی کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ سرگرمیاں معمول کی سفارتی حدود سے آگے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔

دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی ان دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کا رخ اس کے دشمنوں کی جانب ہوتا ہے، اتحادیوں کی جانب نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیشرفت ہوگی، کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور انٹیلیجنس شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کے باعث معاملہ تاحال میڈیا رپورٹس اور غیر مصدقہ ذرائع تک محدود ہے۔

More posts