خیبر پختونخوا پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے اور 9 اور 10 محرم کو حساس علاقوں میں جزوی طور پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر تیار کی گئی سیکیورٹی رپورٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ضلع کرم کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید چھ اضلاع کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں محرم الحرام کے دوران مجالس اور ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 14 اضلاع میں 43 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔
سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حساس ترین علاقوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاک فوج کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ حساس اضلاع میں جلوسوں کے راستوں کی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی جبکہ غیر مجاز فضائی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم بھی فعال رکھا جائے گا۔
پولیس حکام نے تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ماتمی کمیٹیوں، علمائے کرام اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی معطلی کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ اور متعلقہ وفاقی اداروں کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
محرم میں حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس بند کرنے کی سفارش
