امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو جمعے سے قبل ہی عوام کے سامنے جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جے ڈی وینس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد معروف نشریاتی اداروں سے گفتگو کی، جہاں انہوں نے ایران معاہدے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیا جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کے روز متوقع ہے، معاہدے کی بعض تفصیلات ابھی تک زیر غور ہیں، تاہم دونوں فریقین اہم نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں،صدر ٹرمپ معاہدے کی تفصیلات کو جلد عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔
اے بی سی نیوز کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے متعلق معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات کے بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران کو معاہدے کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔
سی این بی سی کے پروگرام ’اسکواک باکس‘ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، تاہم امریکا کے پاس مذاکرات میں مضبوط پوزیشن موجود ہے اور ’تمام اہم کارڈز‘ امریکا کے ہاتھ میں ہیں۔
سی این این کے پروگرام ’دی لیڈ‘ میں انہوں نے ریپبلکن حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو اسے کسی بھی جانب سے مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔
این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے خاتمے کے مجوزہ فریم ورک کے تحت بین الاقوامی جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران کا دورہ کریں گے اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کی مسلسل میڈیا مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی اور عوامی سوالات کا جواب دینے اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
