Baaghi TV

دیر پائین میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج، مرکزی ملزم گرفتار

‎دیر پائین کے علاقے رباط کے گاؤں خرکئی میں 19 سالہ یتیم لڑکی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی آبادی، سماجی حلقوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
‎مقامی ذرائع کے مطابق مقتولہ کی والدہ پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں جبکہ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے چچا نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم لڑکی نے اس رشتے سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔
‎رپورٹس کے مطابق انکار پر مشتعل ہو کر چچا اور اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر لڑکی پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ زخمی لڑکی کو گھر کی چھت سے نیچے پھینکا گیا، گھسیٹا گیا اور اس پر کلہاڑی سے بھی حملہ کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
‎مقامی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقتولہ کی تدفین انتہائی عجلت میں کی گئی اور انہیں بغیر کفن، غسل اور نماز جنازہ کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
‎واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
‎پولیس حکام کے مطابق واقعے کے مرکزی ملزم، جو مقتولہ کا چچا بتایا جا رہا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
‎آج مقتولہ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مقتولہ کے لیے دعائے مغفرت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بیٹی کے ساتھ ایسا افسوسناک سانحہ پیش نہ آئے۔

More posts