وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے تقریباً ایک ہفتے بعد بھی امدادی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، جہاں ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے ممکنہ زندہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق تباہی کی شدت نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار، اپوزیشن، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق، 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے چند سیکنڈ کے وقفے سے آئے، جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔
رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم ایک ہزار 943 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 10 ہزار 500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلوں کے باعث تقریباً 16 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں خاندان عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
امدادی اداروں نے اب تک 6 ہزار 400 سے زیادہ افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا ہے، تاہم تقریباً 43 ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یونیسیف کے مطابق اس قدرتی آفت سے تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار بچے شدید متاثر ہوئے ہیں، جنہیں فوری انسانی امداد، خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور محفوظ رہائش کی ضرورت ہے۔ امدادی تنظیمیں بچوں اور خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
زلزلوں سے ملک بھر میں تقریباً 59 ہزار عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر عوامی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی وینزویلا کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرین کو بروقت امداد نہ ملی تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، ہلاکتیں 1,943 تک پہنچ گئیں
