ڈی جی آئی ایس پی آر لفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آج کی بریفنگ کا مقصد سیکیورٹی سے متعلق امور پر آگاہ کرنا ہے،آج میں بلوچستان کی صورتحال پر خاص توجہ دلاؤں گا،اب تک 40ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے ،بلوچستان میں اب تک 31 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں۔خیبر پختو نخوا میں 7177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ،رواں سال 40 ہزار 348 آپریشنز کیے گئے، رواں سال شہادتوں کی تعداد 819 ہے جبکہ 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشتگردی کے واقعات سے رواں برس 819 شہادتیں ہو چکیں جن میں 303 آرمی کے جوان ، 322 شہری اور 194 دیگر سیکورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں،2023 میں شہید زیادہ تھے اور دہشت گرد کم مارے جارہے تھے۔ زیادہ تر بم دھماکوں میں افغان باشندے ملوث ہیں، ٹانک،کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی ملوث تھے۔
دہشتگردوں کو سرنڈر یا پھر سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنا پڑے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں میں زیادہ تر افغانی ملوث ہیں، اب ان سے بات چیت کی گنجائش نہیں ہے۔ رواں سال اب تک 3 ہزار 145 دہشت گردی کے واقعات ہوئے،ان میں سے 1971 خیبرپختون خوا، 1148 بلوچستان اور باقی ملک میں26 واقعات شامل ہیں، اس سال روزانہ اوسطاً 10 دہشت گرد مارے گئے ،اس سال دہشت گردی کے واقعات میں 322 عام شہری شہید ہوئے،اس سال کل 28 خود کش حملے کئے گئے، بیشتر خود کش بمبار افغان تھے، دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے انھیں یا تو قانون کے پاس سرنڈر کرنا ہوگا یا پھر سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنا پڑے گا،دهشتگر دریاست کے سامنے نہ جھکے تو بھر پور جواب دیا جائے گا،
آئین کے مطابق ہماری بنیادی ضرورت ہے کہ ہم ریاست کے وفا دار ہوں۔ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ملک کو ہارڈ سٹیٹ بنانا ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا مطلب ملٹری کے کنٹرول کی سٹیٹ نہیں بلکہ اس کا مطلب وہ ریاست جہاں ہر کام آئین کے مطابق ہوتا ہے اور قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ اس میں کوئی ایلیٹ نہیں ہوتا، اگر بلا تفریق آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات لے آئیں تو یہ ہارڈ اسٹیٹ ہو گی،ہارڈ اسٹیٹ میں معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں اسکا مطلب مارشل لاء نہیں۔ اس میں عام اور خواص برابر ہیں۔ کیا ہم حقوق سے قبل فرائض سے آگاہ ہیں؟ آئین کے مطابق ہماری بنیادی ضرورت ہے کہ ہم ریاست کے وفا دار ہوں۔اپنے حقوق کا تقاضا کرنے سے پہلے اپنے فرائض کو سمجھیں، آرٹیکل 5 واضح ہے کہ ریاست سے وفاداری لازم ہے۔ کیا یہ ہر شہری کی ذمے داری نہیں ہے کہ ہماری پہلی اور آخری پہچان پاکستانی ہو نہ کہ ہم ترجیح دیں اپنی پنجابیت، پختونیت، بلوچیت، سندھیت اور کشمیریت کو،”فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چند دن پہلے واضح کہا کہ حقوق کی تحریک کے بجائے فرائض کی تحریک کی بات کیوں نہیں کرتے؟ ہر شہری اور ادارے کے فرائض کی بات ہونی چاہیے،حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ضروری ہیں۔ ہر پاکستانی کی پہلی، آخری اور سب سے مقدم شناخت "پاکستانی” ہونی چاہیے، کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، زندگی ہے اور شناخت بھی ہے۔
ریاست ہے تو سیاست ہے،ریاست ہے تو جان ہے،ریاست ہے تو نام ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ہماری پہلی اور آخری پہچان پاکستانی ہونی چاہیے، نہ کہ پنجابیت، پختونیت، بلوچیت، سندھیت یا کشمیریت۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سردار اور ایلیٹ ہیں، کئی بلوچ سردار دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق میں ناکامی کے بعد ہندوستان نے دہشتگردوں پر بھاری سرمایہ کاری شروع کردی،ریاست ہے تو سیاست ہے ریاست ہے تو جان اور مال ہے،ریاست ہی وہ بنیاد ہے جس پر سیاست، امن، شناخت اور مستقبل قائم ہوتے ہیں۔ ریاست محفوظ ہوگی تو سب کچھ محفوظ رہے گا۔جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں ۔کچھ سردار سمجھتے ہیں غریب کا بچہ انکا غلام رہے، وہ کلاشنکوف اٹھائے انکا گارڈ بنے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان سے بات کریں ہم ان سے بات نہیں کریں گے۔ انکو سمگلنگ اور منشیات لانے کی عادت ہے۔بلوچستان کا مسلئہ وہاں کے سردار اور ایلیٹ ہیں جو سمگلنگ سمیت بہت سے جرائم میں ملوث ہیں اپنا حصہ مانگتے ہیں وہ بھی ایک ہزار ارب روپے لیکن ہم نہیں دینگے ۔سردار کہتے ہیں کہ حصہ نہیں دوگے تو دہشت گردی کروائیں گے،ہم بلوچستان میں جو اسٹیک ہولڈرز ہیں ان سے بات کریں گے کسی اور سے بات نہیں کریں گے ۔دہشتگرد اپنے ڈیزل اور سمگلنگ پرمٹ چاہتے ہیں ۔ جو انکو نہیں ملتے تووہ دہشتگردی کرتے ہیں ۔ بلوچستان کے وسائل کا حق بلوچستان کی عوام کا ہے ۔ بلوچستان میں وہی سیاسی نظام ہے جو باقی صوبوں میں ہے، اسمبلی میں وہی لوگ جاتے ہیں، وہ جیتتے ہیں یا ان کے خاندان والے جیت جاتے ہیں، وہ جیت جائیں تو جمہوریت ہے، بلوچستان میں جب تک اقتدار انہی مخصوص خاندانی چہروں کو ملے تو سب جمہوریت ہے، لیکن شکست ہوتے ہی یہی لوگ آمریت کا واویلا مچا کر ریاست پر زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ بلوچستان میں سردار طبقہ اس پرانے نظام (سٹیٹس کو) کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جس کے تحت غریب کا بچہ تعلیم، ترقی اور اچھے عہدوں سے محروم رہ کر ان کا غلام بنا رہے یہ عناصر اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات، غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور فنڈز کے حصول کے لیے دباؤ کی سیاست اور دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں، اور ریاست کو بلیک میل کر کے مذاکرات اور خوشامد کے طلبگار ہوتے ہیں، حالانکہ اصل اسٹیک ہولڈر بلوچستان کے عام عوام ہیں اس کے علاوہ، بلوچستان کی اہم جغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل سے خائف ہو کر بیرونی طاقتیں بھی ان اندرونی سرداروں اور اشرافیہ کے ساتھ مل کر اس استحصال کے نظام کو قائم رکھنا چاہتی ہیں. احساس محرومی کی بات ہوتی ہے ، گوادر میں ساڑھے تین لاکھ کی آبادی ہے ، تین یونیورسٹیاں ہیں، چار کالجز اور تین سو اٹھارہ اسکولز ہیں ،
چار اینگلز سے حملے کی وڈیو بناتے ہیں، تم حملہ کرنے آئے ہو یا فلم کی شوٹنگ کرنے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل نے چند روز پہلے بالکل واضح انداز میں بات کی،افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہیں،دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے،یہ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں ہمیشہ ان کا غلام رہے،دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف دوٹوک ہے؛ اب رعایت یا مذاکرات کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ قانون کی عملداری تسلیم کریں، بصورت دیگر ریاست پوری قوت سے کارروائی کرے گی،بلوچستان میں جو کانٹینٹ بنانے کا کام شروع ہوا ہے، خوبصورت وارداتیں، ویڈیو بنائیں گے، ایک بندہ آرہا ہے، پولیس اسٹیشن پر حملہ کر رہا ہے، 4 اینگل سے کیمروں سے ویڈیو بن رہی ہے، تم پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے آئے ہو یا کوئی فلم کی شوٹنگ کرنے آئے ہو،ہماری ذمہ داری ہےہمیں ریاست سےمخلص رہناہے،ہماری سب سےپہلی پہچان پاکستانی ہے کوئی دوسری قومیت نہیں ہے،افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے،دہشت گردی میں ملوث افراد کو مسنگ پرسنز کے بیانیے کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بلوچستان کا فی کس آمدنی 75 ہزار سے زائد ہے اور پنجاب کی فی کس آمدنی 45 ہزار سے کم ہے،
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی طرف سے سویلین افراد کی جان و مال کو نشانہ بنانے کی وڈیوز میڈیا کے سامنے پیش کردیں اور کہا کہ یہ نرم اہداف کو نشانہ بنا کر بیانیہ بناتے ہیں اور پھر بھارت کو بھیجتے ہیں جو پھر اسے اچھالتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران شہداء پولیس کو خراج عقیدت پیش کیاگیا جنھوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مسنگ پرسنز دہشتگردانہ کاروائیاں کرتے ہیں، ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کو باہرنکل کرمار ر ہے ہیں، ہم ان کا شکارکر رہے ہیں، اس لیے اب فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے بھارت میں بیٹھے ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس سال اب تک 178 سویلینز کو شہید کیا جا چکا ہے، انہوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو تباہ کیا، 60 مقامات پر آگ لگائی گئی، یہ ہے ان لوگوں کی احساس محرومی اور ان کا ترقی مخالف ایجنڈا جسے وہ پروان چڑھاتے ہیں۔اب ان کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ریاست کے آگے سرنڈر کرو، مصالحت کا وقت ختم ہو گیا ہے،لاپتہ افراد سے متعلق ایک کمیشن بنایا گیاجس میں درخواستیں دی گئیں اور مختلف اعداد و شمار دیے جاتے ہیں،لاپتہ افراد سے متعلق کبھی کہا جاتا ہے کہ 10ہزار کبھی 20ہزار کہتے ہیں ،لاپتہ افراد کمیشن میں بلوچستان سے 2ہزار 900درخواستیں آئیں، 2700افرد کی شناخت بھی ہوگئی، مسنگ پرسنز کے معاملے پر ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حقائق اور ریکارڈ موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے لاپتا افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کر رکھا ہے، جس کی نمائندگی ہر ضلع میں موجود ہے۔ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کا نام اور شناختی کارڈ نمبر فراہم کیا جائے تاکہ ریکارڈ کی بنیاد پر اس کی تصدیق کی جا سکے ، مسنگ پرسنز کمیشن کے قیام کے بعد اب تک 10 ہزار 900 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیسز نمٹا دیے گئے ہیں۔ ان کیسز میں 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں، 1 ہزار 360 مختلف جیلوں میں موجود ہیں، جبکہ تقریباً 300 افراد انتقال کر چکے ہیں۔ مزید 2 ہزار 400 کے قریب کیسز میں کمیشن نے قرار دیا کہ متعلقہ افراد لاپتا نہیں تھے۔ بعض افراد جنہیں مسنگ پرسنز قرار دیا جاتا ہے، بعد ازاں گوادر، کوئٹہ اور مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں کے دوران مارے جاتے ہیں، جبکہ بعض دہشت گرد سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں.
دہشت گرد تنظیمیں جان بوجھ کر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں، ذہنی طور پر ان کو ٹریپ کرکے ان کے ہاتھوں دہشتگردی کراتےہیں، اس کا ہمارے دین اور کلچر کے ساتھ کوی تعلق نہیں، لاپتہ افراد سےمتعلق کبھی کہا جاتا ہے 10 ہزارکبھی 20 ہزارکہتے ہیں، لاپتا افراد سے متعلق کمیشن بنایا گیاجس میں درخواستیں دی گئیں، بلوچستان سےلوگ خود کہتے ہمارا بھائی یا بیٹا مسنگ ہوگیا اس سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسنگ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا ہے، بھارت اور ہم میں فرق یہ ہے کہ ہم دہشتگردوں کو مارنے جاتے ہیں، انکی فلم بنانے کے لئے نہیں۔ اپنے حقوق کے شکوے کئے جاتے ہیں لیکن اس ملک کے آئین میں پہلے یہ لکھا ہے کہ آپ پہلے ریاست کے وفادار ہوں، آپ پہلے اپنی ریاست کے وفار ہوں گے تو پھر اپنے حقوق کی بات کریں،دہشت گرد تنظیمیں جان بوجھ کر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں،الحمدللہ بلوچستان کی پولیس ان بدمعاشوں کو رگڑنے کے لیے کافی ہے،یہ جو فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج ہیں، ان کے مائی باپ آر ایس ایس، بھارت، اور ہیبت اللہ اینڈ پارٹی ہیں۔ یہ سب مل کر آتے ہیں، مگر جہاں بھی یہ فوج اور ایف سی کے خلاف آتے ہیں، وہاں انہیں جوتے پڑتے ہیں۔ ہم تو انہیں باہر نکل کر مار رہے ہیں۔ اس سال اب تک 2,084 مارے جا چکے ہیں، اور گنتی جاری ہے۔ ہم تو انہیں کہتے ہیں کہ آؤ۔کسی کو افغان مہاجرین کے انخلاء سے مسئلہ ہے تو وہ بھی اپنے مسئلے کے ساتھ وہاں چلے جائیں جہاں یہ جارہے ہیں،بھارت کی300 سےزائدبوگس ویب سائٹ بلوچستان کےخلاف پروپیگنڈا کررہی ہیں، بوگس ویب سائٹس مختلف پلیٹ فارمزکےذریعےنفرت اورتقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، ان کے پیچھے ہندوستان کا سائبرہوگا لیکن ہمارا بچہ بچی بھی کم نہیں، ہم بلوچستان کے عوام کو امپاور کرنا چاہتےہیں اور کررہے ہیں، ہر سال بلوچستان میں آئی ٹی میں 10800 طلبا کو تعلیم دی جاتی ہے، 26 لاکھ افغان مہاجرین بھجوائے جاچکے ہیں، جانا ہے تو ویزا لیں، حکومت سے درخواست کریں، رکارڈ پر جائیں اور واپس آئیں، ابھی تک ہم 25 ارب کےقریب اسمگلڈسامان پکڑ چکے ہیں، ہارڈ اسٹیٹ میں اسمگلرز کی جگہ صرف جیل میں ہے، ساڑھے 4 ہزار بندے پکڑے جو ہیومین اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، ترجمان پاک فوج
وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، آبادی بڑھ چکی ہے، صوبے وہی چار ہیں، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، 1972 میں ہماری آبادی 7 سے 8 کروڑ تھی، آج آبادی 25 کروڑ ہے تو ہمیں کچھ سوچنا پڑے گا، 4 گنا آبادی بڑھ گئی ہے اور وہی 4 صوبے ہیں تو ہمیں کچھ سوچنا پڑے گا۔ قابل احترام سیاستدانوں سمیت تمام پارٹیوں کی خواہش ہے مسائل حل ہوں۔نیشنل ایکشن پلان کے14نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا، کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، یہ کشمیریوں نےطے کرنا ہےکہ انہوں نے پاکستان سے ملنا ہے یا بھارت سے، جو کشمیری وہاں سے آئے وہ کیوں چھوڑے کےآئے؟ کیونکہ وہاں ظالم نظام ہے، کشمریوں کا فیصلہ پکا ہے، اب بھارت نے کچھ تو کرنا ہے، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ کے قریب سیکیورٹی فورسز لگائی ہوئی ہے، 2019 میں بھی طبیعت صاف کی تھی،2025 میں تو اگلی پچھلی طبیعتیں صاف ہوگئیں، مقبوضہ کشمیر کے لوگ ان سے پوچھ رہےہیں پہلگام میں تمہاری سکیورٹی کدھر تھی، اب انہوں نے حقوق کے لبادے میں واردات ڈالی۔ مولانا فضل الرحمن کی شہدا سے متعلق گفتگو ناقابل فہم ہے،شہادت فوج کی ریڑھ کی ہڈی ہے،فلسفہ شہادت پر فوج ائیر فورس،نیوی اور پولیس کھڑی ہے،کارگل میں دلیر جوان شہید ہوئے تھے
