دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک انتہائی بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کی تکمیل کے بعد یہ دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیسلا اور سپیس ایکس مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ’Terafab‘ کے نام سے ایک وسیع و عریض سیمی کنڈکٹر میگا فیکٹری تعمیر کر رہی ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے پر تقریباً 16.8 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ تمام مراحل مکمل ہونے کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری 119 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔Terafab کا مکمل منصوبہ 10 کروڑ مربع فٹ سے زیادہ رقبے پر محیط ہوگا۔ اگر منصوبہ پیش کردہ خاکے کے مطابق مکمل ہوگیا تو یہ موجودہ عالمی ریکارڈ توڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن جائے گی۔موجودہ ریکارڈ چین کے شہر چینگدو میں واقع New Century Global Center کے پاس ہے، جس کا رقبہ تقریباً 1 کروڑ 89 لاکھ مربع فٹ بتایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں Terafab کا متوقع رقبہ پانچ گنا سے بھی زیادہ ہوگا۔
منصوبہ امریکی سطح پر موجود بڑی عمارتوں کے مقابلے میں بھی غیر معمولی طور پر وسیع ہوگا۔ مثال کے طور پر واشنگٹن میں قائم پینٹا گون تقریباً 66 لاکھ مربع فٹ، ایپل پارک تقریباً 28 لاکھ 20 ہزار مربع فٹ جبکہ مال آف امریکہ تقریباً 56 لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہے۔Terafab ٹیکساس کے Grimes County میں تعمیر کی جا رہی ہے، جو ہیوسٹن کے قریب واقع ہے۔ منصوبے کی ابتدائی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے۔ایلون مسک نے منصوبے کے حوالے سے اسے زمین کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ قیمتی عمارت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عمارت انتہائی خوبصورت ہوگی، جبکہ ایک اور بیان میں انہوں نے اس منصوبے کے تصور کو ’’سائنس فکشن سٹی‘‘ سے تعبیر کیا۔منصوبے کے جاری کیے گئے خاکوں میں ایک انتہائی وسیع، پروں کی شکل جیسی عمارت دکھائی گئی ہے، جس کا ڈیزائن ٹیکنالوجی اور مستقبل کے جدید شہر کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
Terafab کا بنیادی مقصد جدید سیمی کنڈکٹر چپس کی بڑے پیمانے پر تیاری ہے۔ اسپیس ایکس کے مطابق اس کمپلیکس میں لاجک چپس، میموری، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ سمیت مختلف مراحل ایک ہی جگہ انجام دیے جائیں گے۔کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ٹیسلا اور سپیس ایکس کو مستقبل میں اتنی بڑی تعداد میں چپس درکار ہوں گی کہ موجودہ اور مستقبل کی عالمی پیداوار ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔Terafab کا ہدف سالانہ ایک ٹیرا واٹ سے زیادہ کمپیوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔Terafab میں تیار ہونے والی چپس صرف عام کمپیوٹرز یا موبائل فونز کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ انہیں ٹیسلا کے مستقبل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔ان میں ٹیسلا کے Optimus روبوٹس، خودکار Cybercab گاڑیوں اور دیگر جدید اے آئی نظام شامل ہیں۔ کچھ اعلیٰ طاقت والی چپس اس کے مستقبل کے خلائی ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بھی استعمال کی جائیں گی۔
Terafab منصوبے سے مقامی سطح پر روزگار کے بھی بڑے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ کمپنیوں کے مطابق اس منصوبے سے کم از کم 3 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ایلون مسک نے مارچ میں پہلی مرتبہ اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی، جب اس کی مجموعی سرمایہ کاری کا ابتدائی تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔بعد ازاں منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت کو نظرثانی کرکے 16.8 ارب ڈالر کردیا گیا، تاہم تمام مجوزہ مراحل مکمل ہونے کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری 119 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اتنے بڑے صنعتی منصوبے کے ساتھ ماحولیاتی اور پانی کے استعمال سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ Terafab کو Gibbons Creek Reservoir کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ ذخیرہ ایک ایسے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جو 2018 میں بند ہوگیا تھا۔ٹیکساس میں پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز اور بڑے صنعتی منصوبوں کے پانی کے استعمال پر بحث جاری ہے۔ سپیس ایکس کا کہنا ہے کہ Terafab کے لیے مقامی زیرِ زمین پانی استعمال کرنے کے بجائے ذخیرۂ آب سے پانی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔منصوبے کو جہاں سرمایہ کاری اور روزگار کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے، وہیں Grimes County کے بعض رہائشیوں نے اس پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اعلان سے ایک روز قبل سیکڑوں مقامی افراد نے کاؤنٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور منصوبے کے لیے دی جانے والی کروڑوں ڈالر کی ٹیکس مراعات اور معاہدوں کے طریقہ کار میں شفافیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کے دفتر کی جانب سے سپیس ایکس کو اس منصوبے کے لیے 30 ملین ڈالر کی فنڈ گرانٹ بھی دی گئی ہے۔ منصوبہ ریاست کے ایک اور اقتصادی مراعاتی پروگرام کے لیے بھی اہل قرار دیا گیا ہے۔امریکی چِپ ساز کمپنی انٹیل نے بھی Terafab میں تعاون کی تصدیق کی ہے، تاہم کمپنی نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ منصوبے میں اس کا کردار کس نوعیت کا ہوگا۔
اگر Terafab منصوبہ اعلان کردہ حجم اور صلاحیت کے مطابق مکمل ہوگیا تو یہ صرف دنیا کی سب سے بڑی عمارت کا ریکارڈ ہی نہیں توڑے گا بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، خودکار گاڑیوں اور خلائی ٹیکنالوجی کے لیے سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں بھی ایک غیر معمولی صنعتی مرکز بن سکتا ہے۔
