ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کا معاشی گھیراؤ دراصل امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے، ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں-
ایرانی وزیر خارجہعباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی دراصل ’اقتصادی دہشتگردی‘ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
انہوں نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں امریکی قومی قرضہ تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی داخلی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف جارحانہ معاشی اقدامات کو ہوا دے رہا ہے،ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی، ناکام پالیسیوں کو مزید سخت بنانا مزید ناکامیوں ہی کو جنم دے گا۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے ساتھ مالی، تجارتی یا لاجسٹک تعاون جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
