Baaghi TV

صارفین پر مزید اضافی بوجھ کا خدشہ، بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

صارفین کے لیے ایک بار پھر بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے، بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ بڑھانے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے، جس پر نیپرا آج سماعت کرے گی۔

سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق جولائی کے دوران ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 50 روپے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداواری لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ رہی۔ درآمدی ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت بھی 47 روپے 37 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

نیپرا سماعت کے دوران پیش کیے جانے والے تمام اعداد و شمار اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے گی، جس کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ اور نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل بھی نیپرا نے جون کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی۔

اس وقت جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کا اطلاق ملک بھر کے صارفین سمیت کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی کیا گیا تھا، جبکہ اضافی رقم اگست کے بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جانی تھی۔

نیپرا کے مطابق جون 2026 کے لیے بجلی کے اصل فیول چارجز 8.4641 روپے فی یونٹ تھے، جبکہ ریفرنس فیول چارجز 7.7138 روپے فی یونٹ مقرر تھے۔ دونوں میں فرق کے باعث ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔

اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخ میں ایک روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔ نیپرا نے درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

More posts