Baaghi TV

سانحہ پمز، تحقیقاتی کمیٹی کے عملے سے تحریری بیانات طلب، سی سی ٹی وی ریکارڈ تحویل میں لے لیا

fire

سانحہ پمز کی تحقیقات کے لیے قائم وزیراعظم شہباز شریف کی انکوائری کمیٹی نے نرسری میں ڈیوٹی پر موجود عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے ہیں۔ کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تحویل میں لے کر واقعے سے متعلق شواہد کا جائزہ شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے نرسری اسٹاف سے مختلف سوالات کیے اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کا انتظامیہ کے مؤقف سے موازنہ کیا۔ پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے متعلقہ عملے سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر کمیٹی کے حوالے کردیا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے بھی اپنی رپورٹس جمع کرادی ہیں۔ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4 افسران نے کمیٹی کو تحریری بیانات جمع کرائے ہیں۔

کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنا ہے، جس میں واقعے کی وجوہات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لیا جائے گا۔

سانحے میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے بعد والدین شدید غم و غصے میں ہیں اور بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ سمیت ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی عدم موجودگی اور دروازے بند ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

دوسری جانب سی ڈی اے فائر ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں پمز کے فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں ایمرجنسی راستوں کے باہر سے بند ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

More posts