اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل ایک بار پھر حملہ کرے گا، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے ہفتے کے روز اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی کوشش کو اسرائیل برداشت نہیں کرے گا، اگر ایران نے دوبارہ یہ پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا، چاہے اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاچکا ہو۔
اسرائیلی وزیر کے مطابق اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرچکا ہوتا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام 2 سے 4 سال پیچھے چلا گیا ہے جبکہ اسرائیل اپنی فوجی صلاحیت پہلے ہی ثابت کرچکا ہے، اور اگر ایران نے دوبارہ جوہری یا میزائل پروگرام کی تعمیر نو کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم خطرہ سمجھتا ہے۔
