نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اپنے 86 ٹن سونے کے ذخائر امریکا اور کینیڈا سے نکال کر برطانیہ منتقل کردیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سونے کے ذخائر کو محفوظ رکھنا اور لندن کی مارکیٹ میں سونے کی خرید و فروخت کو زیادہ آسان اور تیز بنانا بتایا گیا ہے۔
ڈچ مرکزی بینک ’’ڈی این بی‘‘ کے حکام کے مطابق نیویارک اور اوٹاوا کے مقابلے میں لندن میں موجود سونے کے ذخائر کو ضرورت کے وقت زیادہ آسانی اور تیزی سے عالمی مارکیٹ میں خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔ سونے کی منتقلی کے لیے بینک نے دو طریقے اختیار کیے، جن میں کچھ سونا خرید و فروخت کے ذریعے منتقل کیا گیا جبکہ کچھ ذخائر براہِ راست فزیکل منتقلی کے ذریعے برطانیہ پہنچائے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 ٹن سے زائد سونا پہلے امریکا اور کینیڈا سے ڈچ شہر زیسٹ منتقل کیا گیا، جس کے بعد تقریباً اتنی ہی مقدار زیسٹ سے لندن پہنچائی گئی۔
تازہ منتقلی کے بعد نیدرلینڈز کے سونے کے ذخائر کی جغرافیائی تقسیم میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ امریکا میں موجود ڈچ سونے کا حصہ 31.3 فیصد سے کم ہو کر 18.5 فیصد رہ گیا، جبکہ کینیڈا میں موجود ذخائر کا حصہ 19.7 فیصد سے کم ہو کر 18.5 فیصد ہوگیا ہے۔
دوسری جانب لندن میں رکھے گئے ڈچ سونے کا حصہ 18.1 فیصد سے بڑھ کر 32.1 فیصد ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود نیدرلینڈز میں موجود سونے کے ذخائر کا حصہ 30.8 فیصد برقرار ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک نیدرلینڈز کے پاس مجموعی طور پر 612.4 ٹن سونے کے ذخائر موجود تھے، جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 72.2 ارب یورو لگایا گیا تھا۔
عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور بدلتی ہوئی معاشی صورتحال کے باعث مرکزی بینک اپنے مالیاتی اثاثوں کی محفوظ اور قابلِ رسائی مقامات پر تقسیم پر توجہ دے رہے ہیں۔ نیدرلینڈز کے مرکزی بینک کی جانب سے امریکا اور کینیڈا سے سونا منتقل کرکے لندن میں ذخائر بڑھانے کے فیصلے کو بھی اسی رجحان کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ سونے کی عالمی تجارت تک آسان رسائی کو اہمیت دی گئی ہے۔
