جنوبی افریقہ میں بھرے ہوئے رگبی اسٹیڈیم کے انتہائی قریب سے دو مسافر طیاروں کی پرواز کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، جبکہ ایئرلائن نے طیاروں کے بلیک باکس کا ڈیٹا حکام کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
جنوبی افریقی ایئرلائن ایئرلنک کے دو 98 نشستوں والے ایمبریئر 190 طیاروں نے 29 اگست کو کیپ ٹاؤن کے ڈی ایچ ایل اسٹیڈیم کے اوپر سے پرواز کی۔ یہ فلائی پاس جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان رگبی میچ سے کچھ دیر قبل کیا گیا۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے اسٹیڈیم کی چھت سے تقریباً 46 فٹ کی انتہائی کم بلندی پر سے گزرے۔
ایئرلنک نے امریکی میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا کہ دونوں طیاروں کے ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز، جنہیں عام طور پر بلیک باکس کہا جاتا ہے، سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پروازیں جنوبی افریقی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی منظور شدہ اور پہلے سے مشق شدہ حفاظتی بلندی اور رفتار کی حدود کے اندر کی گئیں۔ایئرلائن کے مطابق حکام نے محفوظ فلائی پاس کے لیے رہنمائی، منظوری اور معاونت فراہم کی تھی۔ دونوں طیاروں میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا جبکہ ہر طیارے کو تین سینئر کپتان اڑا رہے تھے، جن میں ایک کپتان کو حفاظتی اور تکنیکی افسر کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
دوسری جانب جنوبی افریقی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پرواز کے ڈیٹا کا جائزہ شروع کردیا ہے اور ایئرلنک سے مزید معلومات طلب کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے واقعے کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا اس میں کوئی حفاظتی خدشات موجود تھے اور کیا موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ایئرلنک نے اس سے ایک ہفتہ قبل جوہانسبرگ کے ایلس پارک اسٹیڈیم کے اوپر بھی اسی طرز کی فلائی پاس کی تھی۔ کمپنی نے تیسرے فلائی پاس کی درخواست خراب موسم کے باعث واپس لے لی۔
جنوبی افریقہ میں اس شاندار مظاہرے کو جہاں بہت سے لوگوں نے سراہا، وہیں ہوا بازی کے متعدد ماہرین نے اسے غیر ضروری خطرہ قرار دیا۔ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے سابق چیئرمین پیٹ گوئلز نے اسے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار فٹ کی بلندی پر فلائی پاس بھی متاثر کن ہوتی ہے، اس لیے اس سے کہیں کم بلندی اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جنوبی افریقہ میں کم بلندی پر طیاروں کی پروازیں رگبی کی تاریخ کا بھی حصہ رہی ہیں۔ 1995 میں جنوبی افریقی ایئرویز کا بوئنگ 747 جوہانسبرگ میں رگبی ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا تھا، جبکہ 2024 میں ایمریٹس کا اے 380 بھی اسی مقام پر فلائی پاس کرچکا ہے، تاہم اس کی بلندی حالیہ پرواز سے زیادہ تھی۔حالیہ عرصے میں انتہائی کم بلندی پر طیاروں کی پروازوں کے متعدد واقعات بھی توجہ کا مرکز بنے ہیں، جن میں امریکی نیوی کے بلیو اینجلز کی پرواز اور ٹیکساس میں بوئنگ 777 کی ٹیسٹ فلائٹ شامل ہیں۔
