شرقپور شریف: سابق رکن قومی اسمبلی، سابق ضلع ناظم شیخوپورہ اور سابق رکن پنجاب اسمبلی صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کا مقصد ملک یا صوبوں کی تقسیم نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، انتظامی سہولت اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
شرقپور شریف میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام کسی صوبے کی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی یا لسانی شناخت ختم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ حکومت کو عوام کے قریب لانے کی سوچ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑے اور فیصلوں میں مہینوں یا سال لگ جائیں تو موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 1947ء کے مقابلے میں آج پاکستان کی آبادی، شہر، معیشت اور عوامی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں، تاہم بنیادی صوبائی انتظامی مراکز اب بھی چند بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت، پولیس، انصاف، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی سہولیات سمیت عوام کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔
میاں جلیل احمد شرقپوری نے ون یونٹ کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف اختیارات کو ایک مرکز میں جمع کرنے سے حکمرانی بہتر نہیں ہوتی، بلکہ حکومت اگر عوام سے دور ہو تو مسائل مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مقصد مرکزیت بڑھانا نہیں بلکہ اختیارات کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں کم آبادی کے لیے چار صوبائی حکومتیں قائم تھیں اور آج ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے تو انتظامی اکائیوں کی تعداد اور ساخت پر نظرثانی کے لیے قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 28 انتظامی صوبائی حکومتوں کا تناسب صرف ایک فکری مثال ہے، کوئی حتمی آئینی مطالبہ یا فارمولا نہیں۔میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک نے انتظامی سہولت اور عوامی نمائندگی کے لیے نسبتاً چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کی ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی اس موضوع پر بحث کو غیر معمولی یا خطرناک قرار نہیں دینا چاہیے۔ ان کے بقول اصل خطرہ نئے انتظامی یونٹس نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو عوام سے بہت دور ہو۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کا مطلب سندھ یا پنجاب کو تقسیم کرنا نہیں۔ اگر موجودہ جغرافیائی حدود، تاریخ، ثقافت اور شناخت برقرار رکھتے ہوئے انتظامی سہولت کے لیے نئی اکائیاں قائم کی جائیں تو سندھ اور پنجاب اپنی جگہ برقرار رہیں گے، البتہ حکومت اور فیصلوں کے مراکز مزید علاقوں کے قریب آسکیں گے۔
جنوبی پنجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس خطے کے عوام طویل عرصے سے انتظامی محرومی اور ترقیاتی عدم توازن کی شکایات کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب کے مسائل کے مستقل حل، مؤثر نمائندگی اور انتظامی محرومیوں کے خاتمے کے لیے ایک بااختیار انتظامی صوبائی یونٹ کو سنجیدہ قومی آپشن کے طور پر زیر بحث آنا چاہیے۔ تاہم ان کی سوچ صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں آبادی، جغرافیہ، معاشی صلاحیت اور انتظامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں اور مؤثر انتظامی یونٹس پر غور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبے صرف نئے سیکرٹریٹ یا اسمبلیاں قائم کرنے کا نام نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کا مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا، فیصلوں میں تیزی، مؤثر احتساب، وسائل کی منصفانہ تقسیم، پسماندہ علاقوں کی ترقی، نئے ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کا قیام، صنعتی و تجارتی مراکز کی ترقی اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
میاں جلیل احمد شرقپوری نے نئے صوبوں کے نتیجے میں بڑھنے والے انتظامی اخراجات کے اعتراض پر کہا کہ نئی اکائیوں کے قیام کے ساتھ پرانے فضول خرچ نظام کو نقل نہیں کیا جانا چاہیے۔ غیر ضروری وزارتیں ختم، شاہانہ اخراجات کم، ادارہ جاتی اصلاحات اور اختیارات و وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا، "ہمیں نئی کرسیاں نہیں، نئی حکمرانی چاہیے۔”انہوں نے پاکستان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کے لیے مضبوط وفاق، بااختیار انتظامی صوبوں اور طاقتور بلدیاتی نظام کو بنیادی ستون قرار دیا۔ ان کے مطابق وفاق دفاع، خارجہ امور، قومی سلامتی اور قومی معاشی پالیسی جیسے معاملات سنبھالے، صوبائی حکومتیں علاقائی ترقی اور بنیادی شعبوں کی ذمہ دار ہوں جبکہ بلدیاتی اداروں کو اتنے اختیارات دیے جائیں کہ عام شہری کو روزمرہ مسائل کے لیے صوبائی دارالحکومت نہ جانا پڑے۔
سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ اصل مقصد عوام کو براہ راست ریلیف دینا ہے اور ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں حکومت کو معلوم ہو کہ کون سا بچہ تعلیم سے محروم ہے، کون سا خاندان علاج کی استطاعت نہیں رکھتا اور کہاں پولیس، صحت، تعلیم یا صفائی کا نظام خراب ہے۔انہوں نے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست صرف انتخابات، حکومت سازی، وزارتوں اور اقتدار کے گرد گھومتی رہے اور عوام کو بنیادی سہولیات نہ ملیں تو نظام پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی فرد، خاندان یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظام کے حوالے سے ہے۔میاں جلیل احمد شرقپوری نے پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، صحافیوں، دانشوروں، ماہرین معیشت، انتظامی ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام سے اپیل کی کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مکالمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ آبادی، جغرافیہ، معاشی صلاحیت، عوامی سہولت اور انتظامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ نئے صوبوں اور مؤثر انتظامی یونٹس کے قیام پر باقاعدہ غور کرے، ماہرین سے سفارشات لی جائیں، عوام کی رائے حاصل کی جائے اور ایسا آئینی و انتظامی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی ہو۔
آخر میں میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا کہ صوبائی انتظامی اکائیوں میں اضافہ پاکستان کی تقسیم نہیں۔ انتظامی اختیارات کی تقسیم قومی وحدت کی تقسیم نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں صوبے نہیں توڑنے، حکومت کو عوام کے قریب لانے کی ضرورت ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت اور صوبے کے بجٹ کی پہلی ترجیح روٹی، صحت اور تعلیم ہونی چاہیے، اس کے بعد گلیاں، سڑکیں اور تعمیرات۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایسا ملک بنے جہاں کوئی شہری بھوکا نہ سوئے، غربت کے باعث کوئی علاج سے محروم نہ ہو اور کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ ہو۔
