روس اور یوکرین کے درمیان ساڑھے 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو میں موجود ہیں،وہ ہفتے کو ماسکو پہنچے ہاں روسی صدارتی ایلچی کریل دیمترییف نے ان کا استقبال کیا، وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے اس اہم سفارتی پیش رفت اور امریکی وفد کے متوقع دورہ کیف کے پیشِ نظر روس نے یوکرینی دارالحکومت پر تین روز کے لیے فضائی حملے روکنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی وفد کے درمیان کریملن میں ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی اور ٹھوس تجویز موجود ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ایلچی ماسکو کے بعد اتوار کو کیف کا دورہ کریں گے۔
دوسری جانب روسی صدارتی ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ صدر پیوٹن نے امریکی نمائندوں کے یوکرینی دارالحکومت کے دورے کے پیش نظر فوج کو ہفتے کی نصف شب سے تین دن تک کیف پر حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان امریکا کی ثالثی میں آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے کچھ ہی عرصہ قبل ہوئے تھے، ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے علاقوں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سمندری محاذ پر بھی لڑائی میں شدت آئی ہے۔
یوکرینی دارالحکومت گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مسلسل روسی فضائی حملوں کے نشانے پر ہے ان حملوں میں شہر کے وسط میں واقع متعدد عمارتوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں گوداموں اور فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کوکا کولا بنانے والی ایک فیکٹری بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے ان مسلسل حملوں میں کیف شہر اور اس کے وسیع تر ریجن میں اب تک کم از کم 53 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس جنگ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والی خونریز جنگ قرار دیا جاتا ہے تاہم جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر روس اور یوکرین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں ماسکو کا مطالبہ ہے کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کا منصوبہ ترک کرے اور ان 4 علاقوں کا کنٹرول مکمل طور پر چھوڑ دے جنہیں وہ اپنے علاقے قرار دیتا ہے یوکرین ان شرا ئط کو مسترد کرتا ہے اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار ہونے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
