Baaghi TV

پاکستان میں تعلیمی پسماندگی ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی اور پسماندگی ایک ایسا دُکھتا ہوا ناسور ہے جس پر ہر کچھ عرصے بعد تشویش کے اظہار اور دعوؤں کے غبارے تو چھوڑے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کا تلخ سچ آج بھی وہی ہے جو دہائیوں پہلے تھا۔ جب ہم ملک میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی بات کرتے ہیں تو اکثر توجہ صرف اسکولوں کی عمارات یا اساتذہ کی حاضری تک محدود کر دی جاتی ہے، جبکہ اصل المیہ اس بنیاد اور عمارت کا ہے جو پرائمری سے شروع ہو کر مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کی سطح تک مکمل طور پر برباد ہو چکی ہے۔ اگر پرائمری تعلیم اس عمارت کی بنیاد ہے، تو مڈل و ہائر سیکنڈری اس کا وہ ڈھانچہ ہے جس پر قوم کے روشن مستقبل کی چھت قائم ہونی ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ دونوں سطحیں بے حسی، فنڈز کی عدم دستیابی اور غلط پالیسیوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہیں۔

پرائمری اسکولوں کی زبوں حالی ہماری تعلیمی تباہی کا پہلا اور بنیادی زینہ ہے۔ ملک بھر کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں قائم پرائمری اسکولوں کی عمارتوں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کہیں چاردیواری غائب ہے تو کہیں پینے کا صاف پانی اور واش رومز جیسی بنیادی انسانی ضروریات تک میسر نہیں۔ ایک ہی کمرے میں پانچ مختلف جماعتوں کے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا ہمارے تعلیمی نظام کا ایک عام منظر نامہ بن چکا ہے۔ جہاں اسکول کی عمارت موجود ہے، وہاں ‘سنگل ٹیچر اسکول’ کا المیہ دامن گیر ہے؛ یعنی ایک ہی استاد پرائمری کی تمام کلاسوں اور مضامین کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بچے سے کچھ سیکھنے کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پرائمری کی سطح پر بنیاد ہی اتنی کمزور اور کھوکھلی رکھی جاتی ہے کہ بچہ لفظوں کی شناخت اور بنیادی حساب کتاب تک سے ناآشنا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب یہ بچہ مڈل اسکول میں قدم رکھتا ہے تو اس کی تعلیمی صلاحیت پہلے ہی دم توڑ چکی ہوتی ہے۔

پرائمری کی اس زبوں حالی کا براہِ راست اثر مڈل اور سیکنڈری اسکولوں پر پڑتا ہے، جہاں تعلیمی پسماندگی کی ایک اور دردناک داستان رقم ہوتی ہے۔ مڈل اور ہائر سیکنڈری کی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ اسکولوں کا انتہائی غیر متوازن تناسب ہے۔ ملک میں ہزاروں پرائمری اسکولوں کے مقابلے میں مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ ہر چھ سے آٹھ پرائمری اسکولوں کے بعد بمشکل ایک مڈل یا ہائی اسکول میسر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پرائمری پاس کرنے کے بعد بچوں کی ایک بڑی تعداد، بالخصوص دیہی علاقوں میں، آگے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کے معاملے میں یہ صورتِ حال مزید ہولناک ہو جاتی ہے، کیونکہ دور دراز کے علاقوں میں ہائی اسکولوں اور محفوظ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم سے اٹھا لیتے ہیں؛ یوں کروڑوں بچوں کے تعلیمی سفر پر پرائمری یا مڈل کے بعد ہی ہمیشہ کے لیے سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔

جو بچے کسی نہ کسی طرح مڈل اور سیکنڈری اسکول تک پہنچنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، انہیں ایک ایسے نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی ذہنی و معاشی ضروریات سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے ان نوجوانوں پر ایک طرف غریب خاندانوں کا معاشی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ گھر کا چولہا جلانے میں اپنا حصہ ڈالیں، اور دوسری طرف اسکول کا غیر عملی اور خشک نصاب انہیں مستقبل کے لیے کوئی امید نہیں دیتا۔ ہمارے ہائی اسکولوں میں نصاب کا مقصد نوجوانوں کو تکنیکی یا عملی ہنر سکھانا بالکل نہیں ہے، بلکہ انہیں صرف اور صرف امتحانی بورڈز کے طے شدہ سلیبس کا پابند بنانا ہے۔ سائنس اور کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں یا پھر ان پر تالے پڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر فزکس، کیمسٹری اور ریاضی پڑھا کر ہم ان نوجوانوں کو جدید معیشت اور مارکیٹ کی ضروریات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بنا سکتے۔
اس سطح پر امتحانی نظام اور اکیڈمی کلچر نے تعلیمی پسماندگی کے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نویں سے بارہویں جماعت کا امتحانی نظام صرف بچے کی یادداشت اور رٹا لگانے کی صلاحیت کا امتحان لیتا ہے۔ اساتذہ اور اسکول کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ بورڈ کے امتحان میں کس طرح زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرے، چاہے اس کے پاس متعلقہ مضمون کی بنیادی سمجھ ہی کیوں نہ ہو۔ اس مصنوعی نظام نے اسکولوں کی وقعت ختم کر دی ہے اور ان کی جگہ ایک متوازی اور مہنگے اکیڈمی و ٹیوشن کلچر نے لے لی ہے۔ جو والدین اکیڈمیز کی بھاری فیسیں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کے بچے اچھے نمبروں سے محروم رہ کر اعلیٰ تعلیم کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یوں ہمارا ہائر سیکنڈری نظام طبقاتی خلیج کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید وسیع کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

اس تمام تباہی کی تہہ میں اساتذہ کی ناقص تربیت اور اس شعبے میں کی جانے والی سیاسی مداخلت کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ دہائیوں سے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں اور سفارش پر کی جاتی رہیں، جس کا خمیازہ آج ہماری نسلیں بھگت رہی ہیں۔ ایک ایسا استاد جو خود بنیادی مفاہیم سے ناواقف ہو، وہ سیکنڈری سطح کے طلبہ کو کیا پڑھائے گا؟ اوپر سے ہائی اسکولوں میں تدریسی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا کوئی مؤثر اور مستقل بندوبست موجود نہیں ہے۔
جب تک ہم پرائمری اسکول کی عمارتوں، سہولیات اور بنیادی تدریس کو سنبھالا نہیں دیں گے اور مڈل و ہائی اسکولوں کی تعداد بڑھا کر ان میں فنی و عملی تعلیم کو شامل نہیں کریں گے، تعلیمی پسماندگی کا یہ المیہ ختم نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے ہائی اسکولوں کو محض ڈگری بانٹنے کی فیکٹریاں بنانے کے بجائے ایسے مراکز میں ڈھالنا ہوگا جہاں سے نکلنے والا نوجوان نہ صرف تعلیم یافتہ ہو بلکہ کسی نہ کسی ہنر سے آراستہ ہو کر معاشرے کا ایک باصلاحیت اور فعال رکن بن سکے۔ اگر اب بھی اس بحران کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا تو یہ پسماندگی ہماری قومی معیشت اور معاشرتی تانے بانے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔

More posts