بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکی ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 ستمبر تک خسرے کے مشتبہ یا مصدقہ کیسز سے منسلک اموات کی تعداد 999 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ مشتبہ کیسز 166,000 سے تجاوز کرچکے تھے۔ بعد کی مقامی رپورٹس میں اموات کی تعداد 1,002 تک پہنچنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
وبا کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑا ہے۔ وبا کے ابتدائی مرحلے میں پانچ سال سے کم عمر بچے تقریباً 80 فیصد کیسز میں شامل تھے، جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ معمول کی ویکسینیشن میں پیدا ہونے والا خلا ہے۔ کووڈ-19 کے بعد معمول کی ویکسینیشن کا عمل متاثر ہوا، جبکہ 2024 اور 2025 کے دوران اہم حفاظتی ویکسینیشن مہمات میں آنے والے خلل نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔
بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے پیش نظر بنگلہ دیشی حکومت نے عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور گاوی کے تعاون سے ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت اب تک تقریباً 2 کروڑ بچوں تک خسرے سے بچاؤ کی ویکسین پہنچائی جاچکی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خسرے کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکنے کے لیے آبادی میں تقریباً 95 فیصد ویکسین کوریج ضروری ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی کے باعث خسرے جیسی انتہائی متعدی بیماری کے دوبارہ تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خصوصاً کم عمر بچوں میں اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
