امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر آئرلینڈ پہنچ گئے، جہاں ان کے استقبال اور دورے کے دوران سیکیورٹی کے لیے ملک کی تاریخ کے بڑے پولیس آپریشنز میں سے ایک شروع کردیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ڈبلن ایئرپورٹ پہنچنے پر آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم سائمن ہیرس نے استقبال کیا۔ امریکی صدر دارالحکومت ڈبلن کے علاوہ کاؤنٹی کلیئر میں اپنے گالف ریزورٹ ڈون بیگ کا بھی دورہ کریں گے، جہاں آئرش اوپن گالف ٹورنامنٹ جاری ہے۔آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن نے امریکی صدر کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت اور آئرلینڈ اور امریکا کے درمیان مضبوط اقتصادی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔
دورے کے دوران امریکی سفیر کی آئرلینڈ میں رہائش گاہ ڈیرفیلڈ میں ڈونلڈ ٹرمپ مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔ وہ آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے، جس کے بعد آئرش وزیراعظم سے فارم لی اسٹیٹ میں ملاقات متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق کیتھرین کونولی ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طویل عرصے سے ناقد رہی ہیں اور ان کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھی شرکت کرچکی ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کے دورے کے خلاف ڈبلن، ڈون بیگ اور شینن ایئرپورٹ پر احتجاج کی کالز بھی دی گئی ہیں۔ آئرش پولیس کے کمشنر جسٹن کیلی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کی ہر ممکن اجازت دی جائے گی تاہم امن و امان میں خلل ڈالنے یا امریکی صدر کی اہم نقل و حرکت متاثر کرنے کی کوششوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران ڈبلن ایئرپورٹ، شہر کے مختلف علاقوں، کاؤنٹی کلیئر اور شینن ایئرپورٹ کے اطراف اہم سڑکیں بند اور ٹریفک میں نمایاں خلل کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ہونے والے ایک سروے میں 70 فیصد آئرش شہریوں نے امریکی صدر کے دورہ آئرلینڈ کی مخالفت کی تھی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے اس رائے کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں مقیم آئرش نژاد افراد ان کے والد اور ان کے کام کو بہت پسند کرتے ہیں۔کاؤنٹی کلیئر کے بعض رہائشیوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود ڈون بیگ کی مقامی معیشت میں ٹرمپ کی سرمایہ کاری کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔
