Baaghi TV

نیویارک میں قید وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو گھر میں نظر بندی کی درخواست

وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے دل کی بگڑتی ہوئی بیماری کے باعث امریکی وفاقی عدالت سے اپنی حراست ختم کرکے مین ہٹن میں گھر پر نظر بند رکھنے کی درخواست کردی۔

69 سالہ سیلیا فلورس کے وکلا کے مطابق جنوری میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد حراست میں لیے جانے کے دوران ان کی دل کی حالت مزید خراب ہوگئی ہےعدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق سیلیا فلورس کو اس سے قبل دل کے وال کے ایک عارضے، مائٹرل والو پرولاپس، کے علاج کے لیے صرف ماہانہ انجیکشن کی ضرورت ہوتی تھی، تاہم اب وہ کئی ادویات استعمال کر رہی ہیں، جن میں اسپرین، اسٹیٹن، ڈلٹیا زیم اور نائٹرو گلسرین شامل ہیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ بیرونی طبی ماہرین کے خیال میں سیلیا فلورس دورانِ حراست ہلکے درجے کے ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہوچکی ہیں ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر ان کے لیے دل کا ایک طبی طریقۂ علاج تجویز کیا ہے جبکہ مزید سرجری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے سیلیا فلورس کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ایسے علاج کے بعد صحت یابی کے لیے حراستی مرکز موزوں ماحول فراہم نہیں کرسکتا۔

وکلا نے عدالت کو تجویز دی ہے کہ سیلیا فلورس کو مین ہٹن میں ایک رہائش گاہ منتقل کیا جائے، جہاں انہیں عدالت کی سخت نگرانی میں رکھا جائے گا, مجو زہ انتظام کے تحت سیلیا فلورس کی 24 گھنٹے مسلح نگرانی کی جائے گی,جبکہ ان سے ملاقات کرنے والے افراد کے لیے عدالت اور وفاقی استغاثہ سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوگا,ان کی رہائش گاہ کی ویڈیو کے ذریعے نگرانی بھی کی جائے گی اور ٹیلی فون کالز ریکارڈ کی جائیں گی۔

سیلیا فلورس اور نکولس مادورو اس وقت نیویارک میں زیرحراست ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف منشیات اور ہتھیا روں سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں,دونوں الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں، دونوں کے خلاف مقدمے کی سماعت آئندہ سال جون میں مقرر ہے۔

امریکی وفاقی جج ایلون کے ہیلرسٹین نے تاحال سیلیا فلورس کی گھر میں نظر بندی کی درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

More posts