صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔
سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-
