لاہور (خالد محمود خالد) برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت کی جانب سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی ایک اور کوشش سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جہاں مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے بھدرواہ علاقے میں سیوج دھار کے بالائی جنگلات سے برآمد ہونے والی ایک پرانی لاش کو بھارتی سیکیورٹی اداروں نے جیشِ محمد سے وابستہ پاکستانی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مذکورہ شخص کے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت کیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے مطابق اسپیشل آپریشنز گروپ ڈوڈہ، راشٹریہ رائفلز اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی مشترکہ ٹیموں نے سیوج دھار کے دشوار گزار جنگلاتی علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران ایک شخص کی باقیات برآمد کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو اس سے قبل ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک کیا جا چکا تھا اور بعد ازاں اس کی باقیات تلاش کی گئیں۔بھارتی پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران نائٹ ویژن صلاحیت سے لیس ایم فور رائفل بھی برآمد ہوئی، جبکہ ہلاک شخص کو ابتدائی طور پر جیشِ محمد کا کمانڈر قرار دیا گیا ہے۔تاہم بھارتی پولیس کے دعوے میں اسے “پاکستانی جیشِ محمد کا” قرار دینے کے باوجود اب تک ایسا کوئی شناختی، فرانزک یا دستاویزی ثبوت عوام کے سامنے نہیں لایا گیا جس سے آزادانہ طور پر اس شخص کی پاکستانی شہریت ثابت ہوسکے۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر بھارتی اداروں کے پاس مذکورہ شخص کے پاکستانی ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں منظرعام پر کیوں نہیں لایا جا رہا۔ کیا اس شخص کی شناخت ڈی این اے، فنگر پرنٹس، شناختی دستاویزات، خاندان سے تصدیق یا کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے ہوئی؟محض کسی لاش کے قریب سے ایم فور رائفل کی برآمدگی اس شخص کی پاکستانی شہریت ثابت نہیں کرتی۔ اسی طرح کسی شخص کو جیشِ محمد سے منسلک قرار دینا اور اس کی پاکستانی قومیت ثابت کرنا دو الگ دعوے ہیں، جن کے لیے الگ الگ شواہد درکار ہوتے ہیں۔یہ امر بھی اہم ہے کہ پولیس کے مطابق یہ ایک پرانی لاش کا معاملہ ہے اور مذکورہ شخص پہلے ہی ایک کارروائی میں ہلاک کیا جا چکا تھا۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اسے پہلے ہلاک کیا گیا تھا تو اس وقت اس کی شناخت اور قومیت کیوں سامنے نہیں لائی گئی اور اس کی باقیات اتنے عرصے بعد کیوں برآمد ہوئیں؟
بھارت میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے دوران اس دعوے کے سامنے آنے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کہیں بھارت ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا بیانیہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔کسی بھی نامعلوم یا ناقابلِ شناخت لاش کو بغیر قابلِ تصدیق شواہد کے پاکستانی شہری قرار دینا ایک سنگین معاملہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی برادری کی توجہ نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس پر مرکوز ہے۔اگر بھارت یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص پاکستانی شہری تھا تو اسے واضح کرنا ہوگا کہ اس کی شناخت کس بنیاد پر کی گئی۔ بھارتی حکام کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ آیا لاش سے کوئی پاکستانی شناختی دستاویز، موبائل یا دیگر شناختی مواد ملا، کیا ڈی این اے کا کسی پاکستانی خاندان سے موازنہ کیا گیا، یا کسی دوسرے معتبر ذریعے سے اس کی شہریت کی تصدیق ہوئی۔اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مذکورہ شخص کو کس تاریخ اور کس مقام پر ہلاک کیا گیا، اس وقت اس کی شناخت کیا سامنے آئی تھی اور اگر وہ پہلے ہی ایک مشترکہ آپریشن میں مارا جا چکا تھا تو اس کی لاش کی تلاش میں اتنا وقت کیوں لگا۔
محض بھارتی سیکیورٹی اداروں کا بیان کسی شخص کی پاکستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہوسکتا۔ کسی ایسے دعوے کے لیے آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں، خصوصاً جب اس دعوے کو پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر استعمال کیا جا سکتا ہو۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق کسی بھی واقعے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ہلاک شخص کو پاکستانی قرار دینے سے قبل مکمل شواہد سامنے لانا ضروری ہے تاکہ محض ایک الزام کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے۔یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت پاکستان کے خلاف ایک نیا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، یا واقعی اس لاش کی پاکستانی شناخت کے ناقابلِ تردید شواہد اس کے پاس موجود ہیں؟جب تک بھارتی حکام پاکستانی شہریت کے حوالے سے قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں لاتے، اس دعوے کو بھارتی سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
