شادی، ولیمہ اور تقریبات میں صفِ اول کے چہرے، بچے کے المناک سانحے پر زبانیں کیوں خاموش؟
ووٹ عوام کا، دکھ بھی عوام کا، پھر دکھ کی گھڑی میں عوامی نمائندے کہاں ہیں؟ گوجرخان کے شہریوں کا سوال
گوجرخان (قمرشہزاد) جیرور اتیال میں 8 سالہ یتیم محمد آیان کی لاش کنویں سے ملنے کا دلخراش سانحہ گزر گیا، جنازہ بھی ادا ہوگیا، ایک گھر اجڑ گیا اور ایک معصوم بچہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا، مگر گوجرخان کے شہریوں کے لیے اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی ناقابلِ فہم ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق نعش ملنے کو تقریباً 24 گھنٹے سے زائد گزرنے اور جنازہ ہو جانے کے باوجود تحصیل گوجرخان سے تعلق رکھنے والے موجودہ و سابق منتخب عوامی نمائندوں، مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں، سماجی و فلاحی شخصیات اور مختلف عوامی ایکشن کمیٹیوں و تنظیموں کی جانب سے کوئی نمایاں عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا عوامی نمائندگی صرف ووٹ لینے، انتخابی جلسوں، شادیوں، ولیموں، بااثر لوگوں کے جنازوں اور سیاسی تقریبات میں شرکت تک محدود ہے؟ جب کسی غریب معصوم یتیم بچے کا المناک انجام پورے علاقے کو سوگوار کردے تو عوام کی آواز ایوانوں اور سیاسی پلیٹ فارموں تک پہنچانا کس کی ذمہ داری ہے؟ شہریوں کا مزید سوال ہے کہ جو شخصیات معمولی سے معمولی تقریب میں بھی اپنی موجودگی یقینی بنا کر تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے نمایاں رہتی ہیں، ان کی آواز ایسے دلخراش واقعے پر کیوں سنائی نہیں دی؟ کیا محمد آیان کا دکھ اتنا بڑا نہیں کہ سیاسی و سماجی قیادت اسے اپنا مسئلہ سمجھے؟ گوجرخان کے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ خاموشی بھی بعض اوقات ایک پیغام بن جاتی ہے، اور آج یہی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹیوں، فلاحی تنظیموں اور سماجی شخصیات سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اگر ایک معصوم بچے کی موت پر بھی اجتماعی آواز بلند نہیں ہوگی، تو پھر عوام کے مسائل اور حقوق کے لیے بننے والی یہ تنظیمیں آخر کس موقع پر اپنا کردار ادا کریں گی؟
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام مقامی نمائندے، سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں نہ صرف متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کریں بلکہ واقعے کی شفاف تحقیقات، موت کے اصل محرکات کے تعین اور اگر کوئی مجرمانہ عنصر ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے واضح آواز اٹھائیں۔ محمد آیان واپس نہیں آسکتا، مگر اس کی موت کو خاموشی میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے شہریوں کا سوال اب بھی وہی ہے: اگر عوام کے دکھ میں عوامی نمائندے، سماجی رہنما اور فلاحی تنظیمیں بھی خاموش رہیں تو پھر عوام آخر کس دروازے پر دستک دیں؟
