Baaghi TV

گوجرخان 8 سالہ یتیم کی موت، بچوں کے تحفظ کا نظام کب جاگے گا؟

لاپتا بچے کی بروقت تلاش، جدید فرانزک نظام اور پولیس کو فوری ڈیٹا رسائی کا مؤثر میکنزم ناگزیر
قومی و پنجاب اسمبلی میں قانون سازی، سخت عملدرآمد اور سنگین جرائم میں ریاستی مدعیت یقینی بنانے کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان کے نواحی علاقے جیرورتیال میں دو روز سے لاپتہ 8 سالہ یتیم محمد آیان کی نعش گھر کے قریب کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کی، جبکہ ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی ملک طارق محبوب نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے اے ایس پی گوجرخان اور ایس ایچ او کو واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات اور کسی مجرمانہ عنصر کے شواہد ملنے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ بچے کی نماز جنازہ جمعرات کو ادا کردی گئی، علاقے کی فضا سوگوار رہی۔ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ سے سامنے آئے گی۔ محمد آیان کی موت ایک خاندان کا ناقابلِ تلافی صدمہ ہی نہیں بلکہ پورے نظامِ تحفظِ اطفال کے لیے ایک تلخ سوال بھی ہے۔ ملک میں بچوں، بچیوں اور خواتین کے خلاف مبینہ تشدد، اغوا، جنسی جرائم اور قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، مگر ہر واقعے کے بعد محض مقدمہ، تفتیش اور تعزیتی بیانات کافی نہیں، ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ شہریوں، بالخصوص بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی نظام رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بچوں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق موجود قوانین کا ازسرنو جائزہ لے کر جہاں قانونی خلا موجود ہیں وہاں مؤثر قانون سازی کی جائے اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔قومی اسمبلی کی انسانی حقوق سے متعلق قائمہ کمیٹی بھی حالیہ اجلاس میں سنگین جرائم کے مقدمات میں ناقص تفتیش، شواہد کے تحفظ میں ناکامی اور تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مسلسل کیس مانیٹرنگ اور خصوصی میکنزم کی ضرورت پر زور دے چکی ہے۔ لاپتہ بچے یا خاتون کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو نادرا کے متعلقہ ڈیٹا تک قانونی دائرے میں فوری رسائی، جدید ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن معلومات کے بروقت حصول کا مربوط نظام فراہم کیا جائے، جبکہ ہر ضلع میں فرانزک سہولیات اور ماہرین کی استعداد بڑھائی جائے تاکہ قیمتی شواہد ضائع ہونے اور رپورٹوں میں غیرضروری تاخیر کا راستہ روکا جاسکے۔ قومی اسمبلی میں بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی فورم بھی مؤثر قانون سازی، بہتر ڈیٹا اور اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر سنگین جرائم کو محض فریقین کے درمیان صلح یا دباؤ کے ذریعے ختم ہونے سے روکنے کے لیے قانون کے دائرے میں مؤثر ریاستی نگرانی ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر المناک واقعے کے بعد چند دن کی تشویش کے بجائے ایسا مستقل نظام بنایا جائے جو بچے کے لاپتا ہوتے ہی حرکت میں آئے، شواہد محفوظ کرے، مجرم تک پہنچے اور مقدمے کے اندراج سے فیصلے تک ریاست خود ذمہ داری نبھائے۔ جیرورتیال کا واقعہ محض ایک خبر نہیں، نظامِ تحفظِ اطفال کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔

More posts