Baaghi TV

گوجرخان،کمپیوٹرائزڈ راضی ریکارڈ کے نام پر سادہ لوح عوام سے دھوکہ دہی

وزیراعلیٰ صوبائی محکمہ مال سے پٹواریوں کی اس کھلی ناانصافی من مانی کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ
آدھی صدی سے زمینوں پر قابض شہریوں کو مالکانہ حقوق اور پکے انتقال دینے کے لیے فوری نئی قانون سازی کی جائے
گوجرخان (قمرشہزاد) حکومتِ پنجاب کی طرف سے آراضی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر کے عوام کو پٹوار خانوں سے نجات دلانے کے دعوے تحصیل گوجرخان کے دیہی علاقوں میں فیلڈ عملے کی شدید لاپرواہی اور مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے بری طرح ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے پٹواریوں کے اس من گھڑت بہانے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ بڑی کھیوٹوں میں مالکان کے نام صرف شروع کے صفحات پر آتے ہیں اور آخری صفحات یا انفرادی فرد کے کالم نمبر 4 خانہ ملکیت کا خالی رہنا کمپیوٹر کا اپنا طریقہ ہے۔ شہریوں نے سیدھا سوال اٹھایا ہے کہ اگر کمپیوٹرائزڈ فرد کے اندر زمین کے مالک کا نام ہی غائب ہوگا، تو کل کو کوئی بھی بااثر قبضہ مافیا یا سرکاری اہلکار ان لاوارث خسرہ نمبروں پر قبضہ جما کر بیٹھ جائے گا، جو کہ قانونِ اراضی کے بنیادی اصولوں اور شہریوں کے جائیداد کے تحفظ کے حق پر کھلا حملہ ہے۔ متاثرہ عوام نے مستقبل کی نسلوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا نکتہ اٹھایا ہے کہ ماضی میں جن آباؤ اجداد نے زمینیں بیچی تھیں یا آپس میں تبادلے کیے تھے، اگر ان کا ملکیتی لنک کمپیوٹر میں یوں ہی کٹا رہا تو آنے والی نسلوں کو کبھی پتہ ہی نہیں چل سکے گا کہ ان کے بزرگوں نے یہ زمین کس متبادل کے عوض چھوڑی تھی۔ اس سنگین بگاڑ کی وجہ سے مستقبل میں دیہی علاقوں کے اندر خاندانی جنگ و جدل، خون خرابے اور زمینوں کے لامتناہی جھگڑوں کا ایسا طوفان کھڑا ہوگا جسے سنبھالنا کسی ادارے کے بس میں نہیں رہے گا۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جو خاندان پچھلے پچاس ساٹھ سال سے باہمی تبادلوں کے تحت زمینوں پر گھر بنا کر بیٹھے ہیں اور پرانے سرکاری مینوئل ریکارڈ میں ان کا نام موجود ہے، ان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئی قانون سازی کی جائے تاکہ انہیں پکے انتقال اور مالکانہ حقوق مل سکیں اور اداروں میں بیٹھے نااہل افسران شہریوں کو مزید ذلیل و خوار نہ کر سکیں۔

More posts