نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا، معاہدے سے متعلق کسی بھی یکطرفہ بھارتی اقدام کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔
اسحاق ڈار نے اپنے دورہ برطانیہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات میں انسداد دہشت گردی، تجارت اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ پاک برطانیہ تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق برطانوی حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور مشکل حالات میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ ملاقات میں افغانستان اور ایران سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام ہو، تاہم افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ افغانستان کے راستے ازبکستان سے پاکستان تک ریلوے منصوبے کے معاہدے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستانی کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر ایک ہزار کنٹینرز کو دو مرتبہ افغانستان جانے کی اجازت دی، مگر افغان حکام نے امدادی سامان سے لدے کنٹینرز کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
نائب وزیراعظم نے عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ٹی ہارنر 25 پر موجود 10 پاکستانی بحری کارکنوں کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق مذکورہ جہاز پولاؤ میں رجسٹرڈ ہے۔
