اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر حملے اور بمباری پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا-
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیلی نیوز چینل ’24 نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطر کو ’دشمن ریاست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسی کسی دوسرے ملک کے دباؤ کے تحت نہیں چلتی، اسرائیل نے جنگ کے دوران قطر پر حملہ اور بمباری کی اور قطر نے بھی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔
نیتن یاہو کا یہ بیان قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے، 9 ستمبر 2025 کو ہونے والے حملے میں حماس کے 5 ارکان اور قطری سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، یہ حملہ حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا تھا، جس میں امریکا کی حمایت سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت جاری تھی۔
قطر نے اس حملے کو عالمی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی، جبکہ ایران، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے بھی اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ کو بھیجی جانے والی قطری مالی امداد سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم انسانی امداد کے لیے تھی اور اسے اسرائیلی خفیہ اداروں موساد اور شن بیت کی سفارش پر منتقل کیا گیا تھا، ان کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی مجموعی رقم میں قطری فنڈز کا حصہ صرف 2 فیصد تھا۔
