نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تمام پیشرفت رک گئی تھی اور مذاکراتی عمل متاثر ہوا-
العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں شروع ہونے والے مذاکرات امریکا اور ایران کے سفارتی عمل کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں، جن میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملات سمیت لبنان کی صورتحال پر ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو قریباً ناکام بنا دیا تھا، تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے یہ مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تمام پیشرفت رک گئی تھی اور مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اب ایران اپنے پاس موجود ایٹمی مواد یعنی یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اپنے ہی ملک کے اندر اس کی طاقت اور افزودگی کو کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے شروع میں امریکا کا یہی مطالبہ تھا کہ ایران اپنا سارا یورینیم باہر بھیجے، لیکن اب معاملات طے پا گئے ہیں اس وقت تین خاص ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں جو ایٹمی فائل، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان کے معاملے پر الگ الگ کام کریں گے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات اس ثالثی کےعمل میں پوری مدد کر رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےخود اس پورے معاملے کی نگرانی کی ہے، مذاکرات کا اگلا مرحلہ اگرچہ سخت ہو سکتا ہے، لیکن ایک فائنل ہر صورت ممکن ہے کیونکہ اس ڈیل میں کوئی بھی بری یا منفی بات شامل نہیں ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دفتر خارجہ کے حکام بھی برگن اسٹاک میں موجود رہے، جہاں امریکی اور ایرانی وفود نے مذاکرات میں شرکت کی انہوں نے حالیہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتماد فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوچا سمجھا اور دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول دستاویز ہے، جس پر دستخط کرنے والے ممالک کے ارادوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض معاملات کو نمٹانے کے لیے مذاکرات کاروں کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی اور حتمی معاہدہ 60 روز کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے کشیدگی میں کمی کے معاشی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔
اسحاق ڈار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ وہاں جہاز رانی کا نظام 28 فروری سے پہلے والی صورتحال پر بحال ہو، یعنی تجارتی جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹول عائد نہ کیا جائے ابتدائی 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس نہ لینے کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ اس دوران علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد مستقل طریقہ کار طے کیا جائے گا۔
