اسلام آباد: نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ اجلاس میں پمز سانحے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحے کے بعد اٹھائے جانے والے سوالات ناجائز نہیں، جہاں خرابی ہے وہاں احتساب ہونا چاہیے۔
شیری رحمان نے کہا کہ سانحے کے بعد انہوں نے ساتھیوں کے ہمراہ پمز اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت بھی واضح کیا تھا اور آج بھی کہتی ہوں کہ ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے، ہماری سیاست کا مقصد صرف اپنی بات کرنا نہیں بلکہ عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چھ ماہ تک وزیر صحت رہ چکی ہیں اور ان کے پاس چار وزارتیں رہی ہیں، تاہم جہاں انہیں کوئی خرابی نظر آئی، انہوں نے تمام وزارتیں چھوڑ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کے شوہر نے بھی پمز سے علاج کرایا، اس وقت بھی وہ وزیر تھیں لیکن علاج کے دوران گڑبڑ کا سامنا کرنا پڑا، تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت پمز اسپتال کسی کو سروس فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے بیان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ایمرجنسی گیٹ بند نہیں تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی گیٹ کو بند رکھنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟انہوں نے کہا کہ پمز کو 22 ارب روپے دیے گئے ہیں، یہاں پیسوں کا مسئلہ نہیں بلکہ گورننس کا مسئلہ ہے۔ پاکستان بھر سے مریض پمز آتے ہیں، اس لیے موجودہ سانحے کا ذمہ دار ہم سب ہیں۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہم وزیر نہیں بلکہ عوام کے نوکر ہیں۔ میں تنقیدی تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں لیکن میرا مقصد یہاں صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ حل نکالنا ہے۔ پاکستان کے عوام ایوانوں اور اشرافیہ سے مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کچھ نہیں ہو رہا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے سینیٹ کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کمیٹی پہلے بنائی گئی ہے اس پر ہمیں کوئی بھروسہ نہیں، کیونکہ اس میں ایک دوسرے ہی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ امریکا اور دیگر ممالک کی سینیٹس میں بھی ایسی کمیٹیاں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، پاکستان میں بھی یہ کام ایوان سے ہونا چاہیے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کی مائیں صدمے میں ہیں، وارڈ کو دیکھیں تو دل بند ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق پورا عملہ سو رہا تھا اور ایک بچے کو بھی سکیورٹی گارڈ نے نکالا۔انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ ایئر کنڈیشنر سے چنگاری نکلنے کے باعث آگ لگی، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے ایسا واقعہ ہوتے دیکھا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پورا سسٹم کام نہیں کر رہا تھا۔شیری رحمان نے کہا کہ ہیلتھ کمیٹی کی رپورٹ اور پلوشہ کی رپورٹ کو دفن کردیا گیا۔ اگر اسی طرح رپورٹس دفنانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ یہ ایوان نہیں چلنے دیں گی۔انہوں نے کہا کہ پمز کی رپورٹ سی ڈی اے کی رپورٹ سے متصادم ہے۔ سی ڈی اے بار بار کہتا رہا ہے کہ اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات درست نہیں، تو اس پر بروقت نوٹس کیوں نہیں لیا گیا؟ یہاں تک کہ اسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی بھی نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کی رہنما نے کہا کہ سینیٹ کو تعمیری سیاست کا منبع بننا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایوان سے ایک کمیٹی بنائی جائے جو 40 دن میں رپورٹ مرتب کرے اور اسپتال کی انتظامیہ کی معاونت کرے کہ روزانہ آنے والے مریضوں کو بہتر انداز میں کیسے ہینڈل کیا جاسکتا ہے
