پاکستانی اداکارہ سونیا حسین نے خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی اور استحصال کے بڑھتے واقعات پر حکام سے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکارہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کا عنوان ’’ہمارے حکام سے ایک اپیل‘‘ رکھا گیا۔ سونیا حسین نے سوال اٹھایا کہ مزید کتنی معصوم جانوں کے ضیاع کے بعد ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے؟سونیا حسین کا کہنا تھا کہ معاشرہ ایسے واقعات کو محض انفرادی جرائم سمجھ کر نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق حکام کو ان واقعات کے پیچھے موجود ممکنہ نیٹ ورکس، پلیٹ فارمز اور ذرائع کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیں جو بچوں کے استحصال میں سہولت کاری یا اس سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔اداکارہ نے ڈارک ویب کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق بعض اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 6 ہزار 500 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 3 ہزار سے زائد ریپ کیسز سرکاری طور پر ریکارڈ کیے گئے
سونیا حسین نے ہری پور میں 5 سالہ بچے کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات پر کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے، تاہم بعد ازاں توجہ کسی دوسرے معاملے کی جانب منتقل ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے وقتی ردعمل کافی نہیں، بلکہ مؤثر روک تھام، ذمہ داروں کا احتساب اور طویل مدتی اقدامات ناگزیر ہیں۔اداکارہ نے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی عوامی آگاہی میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ والدین اور خاندانوں کو بچوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آسان اور مؤثر رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔
سونیا حسین نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ بچوں کا تحفظ اور عوامی سلامتی حکومتی ترجیحات میں شامل کی جائے۔اداکارہ نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اداروں کی حفاظت، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت اور ذمہ داروں کے احتساب سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
